اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 75 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 75

مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے ، کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے۔وہ اس کو دکھلا دیا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں۔اسی طرح انسانی تبدیلیوں کے متقابل سیر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میت ہے۔خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کہ ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مرگیا ہے۔مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق کرتا ہے“ نے راسی طرح اللہ جل شانہ فرماتا ہے : قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ الكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قبل أن تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مُدَدًاه ركيف : ۱۱۰ ، یارسول الله ساری دنیا میں اعلان کر دے کہ اگر ہر ایک سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لئے روشنائی بن جائے تو اُن کا پانی ختم ہو جائے گا مگر میرے رب کے کلمات ختم نہ ہوسکیں گے۔خواہ ہم اتنے ہی سمندروں کے پانی اور لے آئیں۔: "چشمه معرفت من در دهانی خزائن جلد ۲۳ ص ۱۰۴ - ۱۰۵