اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 76
44 آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی راہنمائی اور دعائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وتم عرفان باری کے آخری بلند مقام پر فائز تھے۔اس کائنات میں صفات الہیہ کا آپ سے بڑھ کر اور کسی کو کیا علم ہو سکتا ہے۔بایں ہمہ آپ کی زبان ہی نہیں روح مبارک بھی جناب الہی کے آستانہ پر اس کی ربانی صفات کے انکشاف کی غرض سے احمدنا پکارتے ہوئے ہمیشہ سجدہ ریز رہی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عبد اللہ بن مسعود کو یہ دعا سکھلائی کہ :- د کرو اللهُم إلى أسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمي بِهِ نَفْسَكَ اَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ في كتابك أو استأثرت بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عندك - الخ - و اے اللہ ! میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں ان ناموں کے ذریعہ سے جو تیرے ساتھ مخصوص اور تو نے آپ اپنے لئے تجویز فرمائے ہیں یا جو نام تو نے اپنے کلام میں نازل فرمائے ہیں یا اپنی کسی مخلوق کو سکھائے ہیں یا اپنی ذرات میں ہی مخفی نہ کھتے ہیں اور کسی فردِ عبشر کو ان کا علم نہیں دیا۔F41 : "مسند احمد بن حنبل، جلد ا ص :