اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 40
الہیہ۔یہ نقشے میں جو ذہن میں کھینچے جاتے ہیں۔جب متواتر ان صفات کو ہم ذہن میں لاتے ہیں اور ان کے معنوں کو ترجمہ کر کے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو کوئی صفت خدا تعالی کا کان بن جاتی ہے۔کوئی صفت آنکھ بن جاتی ہے اور کوئی صفت دھڑ بن جاتی ہے اور یہ سب مل کر ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے۔یہ تصویر الفاظ سے نہیں بنتی بلکہ اس حقیقت سے بنتی ہے جو اس کے پیچھے ہے ان صفات کی تشریح کو دماغ میں لانے سے یہ دماغ کے اندر خمینی جاتی ہیں۔اور آہستہ آہستہ محبت الہی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ کوشش کرنا کہ تصویر کو سامنے لائے بغیر محبت ہو جائے یہ ایک حماقت ہے اللہ تعالٰی کی تصویر کو سامنے لانے کا ذریعہ ذکر الہی ہے اور یہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔اب اگر کوئی کہے کہ محبت الہی کا کوئی اور گر بتاؤ تو یہ بے وقوفی ہوگی کسی شخص کو یہ بتایا جائے کہ تم ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کہ فلاں صاحب کا اتنی وفود ذکر کیا کرو تو وہ کہے گا سبحان الله ! کیا ہی عمدہ گئی ہے محبت الہی پیدا کرنے کا۔لیکن اگر کہا جائے کہ ذکر الہی کیا کہ و تو وہ کہے گا۔یہ بھی کوئی گر ہے یا اگر کسی کو کہا جاے کہ سر کے بل لٹک کر فلاں ورد کیا کرو تو وہ خوش ہو جائیگا لیکن اگر ستاد غفار رحمن اور رحیم کا ورد کرو تو وہ کہے گا۔یہ تو پرانی بات ہے۔غرض لوگ سیدھا رستہ چھوڑ کر بُرا رستہ چلیں گے۔ان کی