اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 23
۲۳ ارنے کا قائم مقام ہے۔در اصل بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کسی قوم کو خُدا کے اس ذات کا کامل عرفان ہی نہیں دیا گیا۔اور اس میں ایک بھاری حکمت ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا اسم ذات اس کی ساری صفات کا جامع ہے اور ساری صفات تاریخ عالم میں پہلی اور آخری بار صرف تھی مصطفے احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ظاہر ہوئیں اور چونکہ پوری دنیا کو اللہ کے اسم ذات کی طرف سب سے پہلی عالمگیر دعوت دینے والے وجود بھی آپ ہی ہیں اس لئے کلمہ توحید میں لا الهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله کا پیارا نام بھی ہمیشہ کے لئے لازم و ملزوم اور وابستہ کر دیا گیا تا فضا ، بقاء اور لقاء کی ہر منزل کا مالک اور عالم ناہوت الاہوت اور جبروت کا ہر جادہ پیما اور دنیائے معرفت کا ہر مسافر اس حقیقت کو دل پر نقش کرنے کہ وہ ان اللہ پر ایمان لاتا ہے جو اس کے مظہر اہم حضرت محمد رسول اللہ پر اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افرد نہ ہوا ہے وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دبر مرا یہی ہے سب ہم نے اسکی پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جی نے حق دکھایا وہ مہ لقا ء یہی ہے یہودہ کے نام پر تشدد یہاں یہ بنانا بھی ضروری ہے کہ یہودیوں کے ہاں یہودہ کے نام کا غیر معمولی