اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 22
استعمال ہوا ہے۔اے اسلام کا فخر و امتیاز رو حضرت مصلح موعود نے اپنے شہرہ آفاق لیکچر ہستی باری تعالیٰ حث میں اور اپنی معرکۃ الاراء اور لاجواب " تفسیر کبیر ( جلد چہارم ، میں یہ انکشاف فرمایا ہے کہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں خدا کا ذاتی نام کوئی نہیں۔نہ یہودیوں میں نہ عیسائیوں میں ، نہ بدھوں میں ، نہ ہندوؤں میں ، نہ زرتشتیوں میں نہ کسی اور مذہب میں صرف صفاتی نام ہیں۔جیسے ہندوؤں میں پرماتما کا لفظ ہے یعنی بڑی آتما - پرھم الینور معنی بڑا المینور اسی طرح زرتشتیوں میں اہرمن اور پیزوان نام ہیں جو دونوں صفاتی ہیں۔مسیحیوں میں بھی کوئی مخصوص نام نہیں۔البتہ اناجیل میں خداتعالی کو خاص طور پر جس لفظ سے یاد کیا گیا ہے وہ باپ ہے جو صفاتی نام ہی ہے۔یہودیوں میں خدا کو یہودہ کہتے ہیں جس کے متعلق تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ بھی اسم ذات نہیں بلکہ اسم صفت ہے جو " یا ھو " سے مرکب ہے۔یعنی اسے وہ جو ہے۔گویا خُدا کیسے نام کا پتہ ہی نہیں۔اسکی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص دور فاصلہ پر جا رہا ہو جس کا نام معلوم نہ ہو مگر اُسے بلانے کی ضرورت ہو تو کہا جاتا ہے کہ ایسے ٹھہر جاؤ اسی طرح یہودہ نام ه : " اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد ۳ حصہ اصل - دانش گاہ پنجاب لاہور ::