اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 24
۳۴ ادب کیا جاتا ہے۔یہ بنی اسرائیل میں خُدا کا خاص نام ہے جو اُسے دنیا کی دوسری اقوام کے معبودوں اور خداؤں سے ممتاز کہتا ہے۔یہودی علماء کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کا یہ خاص نام ہر وقت نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اس میں اس کی بے ادبی ہے۔صرف ان کے علماء ہی نام لے سکتے تھے۔اور انہی کو اس کا مجھے تلفظ آتا تھا۔دستور یہ تھا کہ یہودیوں کا سب سے مقدس پیشوا سان میں ایک بار ایک مذہبی تہوار میں سب سے پاک جگہ یعنی بیت المقدس کے اندر صرف ایک بار یہ نام لے سکتا تھا۔سب لوگ خاموشی کے ساتھ اسے سنتے اور کسی کو اس کے دہرانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔یہودی اخبار اگر یہ نام پبلک میں لیتے تو بگاڑ کر لیتے تاکہ گناہ نہ ہو۔اس درجہ اخفاء کے باوجود مصریوں سے بڑی کوشش سے اس نام کو دریافت کیا اور یہ خیال کر کسے کہ اس نام نی برکت سے یہودیوں نے ہم پر فتح پائی تھی اس نام کو اپنے جادوں میں داخل کر نیا چنانچہ مصری جادو گر بہنو واہ کا نام ضرور لیتے تھے۔اس سلسلہ میں یہوی علماء ایسے متشدد واقع ہوئے تھے کہ ان کے سوا الہ کوئی اور شخص یہ خاص نام لینے کی جسارت کر تا تو وہ یقین رکھتے تھے کہ اس پر خدا تعالیٰ کا منصب ضرور نازل ہوتا ہے اور وہ اس کے مرنے پر نہ کوئی مذہبی رسوم ادا کرتے تھے اور نہ اسے "برکت دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی نجات نہ ہوگی اس بڑھ کر یہ کہ بائیل کی تلاوت کرتے وقت یہود کے لئے بھی اس نام کی تلاوت منع تھی۔اور خلاف ورزی کرنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔بلکہ شارحین بائیبل نے تو یہانتک لکھا ہے کہ غیر یہودی بھی اگر یہ نام