اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 52
Ar صفات سے مشابہہ نظر آتی ہیں۔صفات تنزیہی میں سے شلاً احد ہے یعنی اپنی ذات میں اکیلا اور منفرد - الصمد یعنی ایسی ہستی جس کی سب محتاج ہیں مگر وہ کسی کا محتاج نہیں۔القیوم ہے یعنی اپنی ذات میں قائم اور سب کو قائم رکھنے والا۔بعض تشبیہی صفات یہ ہیں۔نے السميع - ہر آواز سننے والا - الْبَصِيرُ ہر چیز دیکھنے والا - الْحَلِيمُ تحمل والا - المتعلم کلام کر دینے والا - الْمُؤْمِنُ - امن دینے والا۔المصور - صورت گر - قرآن مجد شعیبی صفات بیان کرتے ہوئے یہ اصل بیان کرتا ہے کہ لا شريكَ لَهُ (انعام: ۱۶۴)۔اللہ تعالے کی ذات وصفات دونوں میں اُس کا کوئی شریک نہیں اور جس طرح اس مادی عالم کے تمام نظام شمسی کا ایک مرکز فرض کیا جاتا ہے۔اسی طرح روحانی دنیا کا مرکز محیط خدا تعالئے ہے۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس مرکز کے تعریف اور اختیار اور قبضہ سے باہر ہو۔وہ بہتی آپ ہی آپ موجود ہے۔اور وہ ہر اعتبار سے ایک منفرد اور بے مثال ہستی ہے اور گو دوسری چیزوں کی صفات اور اس کی بعض صفات میں ظاہری مشابہت نظر آتی ہے مگر جیسا کہ حضرت مصلح موعود نے دیباچہ تفسیر القرآن میں ثابت کیا ہے کہ :- حقیقتاً خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو مشابہت نہیں۔مثلاً ظاہر میں خدا تعالی بھی موجود ہے اور انسان بھی موجود ہے۔مگر انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کا وجود با وجود اس کے کہ لفظ خدا تعالیٰ کے وجود کے ساتھ اشتراک رکھتا ہے۔