اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 53
۵۳ حقیقتاً دونوں ایک چیز نہیں۔خدا تعالیٰ کے متعلق جب ہم کہتے ہیں کہ وہ موجود ہے تو اس کے معنے یہ ہو ا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں کامل وجود ہے۔اور جب ہم انسان یا حیوان یا دوسری چیزوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ موجود ہیں تو ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ اسباب اور وہ علیتیں موجود ہیں۔جن کے تغیرات کے نتیجہ میں یہ انسان با حیوان یا دوسری اشیاء پیدا ہوئی ہیں اُس وقت تک اس انسان یا حیوان یا موجودات کا وجود قائم رہے گا اگر وہ اسباب اور وہ ملتیں پیچھے سے ہٹائی جائیں تو اُس کا وجود بھی فنا ہو جائے۔یادہ اسباب و علل جتنے جتنے ہٹائے جائیں گے۔اتنا اتنا ہی وہ فنا ہوتا جائے گا مثلاً ایک نہ زندہ انسان کی زندگی کا موجب اس کی روح کا جسم سے تعلق ہے۔انسان کا زندہ ہونا ایک عارضی تعلق کی وجہ سے ہے۔جب وہ عارضی تعلق قطع ہو جاتا ہے تو انسان رہتا تو ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔انسانی جسم موجود تو ہوتا ہے مگر انسانی جسم نام ہے، چند عارضی اسباب کی وجہ سے چند ذرات کے ایک خاص شکل میں جمع ہو جانے کا۔اُن ذرات کو جب الگ کر دیا جائے تو انسانی جسم باقی نہیں رہتا۔رجب انسان مر جاتا ہے اور اس کو مٹی میں دفن کرتے ہیں تو مٹی کی رطوبت اور دوسرے کیمیاوی اثرات اس کے جسم تو