الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 5

ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء وكان في أول زمنه مستورًا فى اور وہ ( مدعی ) اپنے ابتدائی زمانہ میں گوشتہ گمنامی میں مستور زاوية الخمول، لا يعرف ولا تھا۔نہ وہ پہچانا جاتا تھا اور نہ اس کا ذکر ہی کیا جاتا تھا۔اور نہ تو اس سے کوئی امید کی جاتی تھی اور نہ ہی اس سے خوف يُذكر، ولا يُرجى منه ولا يحذر، کھایا جاتا تھا۔اور اس پر عیب لگایا جا تا او تنظیم نہ کی جاتی۔ويُنكر عليه ولا يُوفَّر، ولا يُعَدّ في اور اسے ان اشیاء میں شمار نہ کیا جاتا تھا جن کا چر چاعوام أشياء يُحدث بها بين العوام اور خواص میں ہوتا ہے۔بلکہ اس کے متعلق یہ خیال کیا والكبــراء بـل يُـظَـن أنـه ليــس جاتا تھا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں اور عقل مندوں کی بشيء، ويُعرض عن ذكره في مجالس میں اُس کے ذکر سے اعراض کیا جاتا تھا۔اور مجالس العقلاء۔وبشره ربه فى اس زمانہ میں اس کے رب نے اُسے بشارت دی کہ وہ ذالك الزمن بأنه معه وأنه اُس کے ساتھ ہے اور یہ کہ اُس نے اُسے چن لیا ہے اختاره، وأنه أدخله في الأحباء اور اُسے (اپنے) پیاروں میں شامل کیا ہے۔اور یہ کہ وأنه سيرفع ذكره ويُغلی شانه وہ ضرور اُس کے ذکر کو بلند کریگا اور اس کی شان بہت ۳ بڑھائے گا اور اُس کو عظیم غلبہ دے گا۔پس لوگوں میں ويعظم سُلطانة فيُعرَف بين اُسے شہرت دی جائیگی اور زمین کے مشرق و مغرب النّاس، ويُذكر في مشارق الأرض ومغاربها بالذكر الجميل والثناء وتُشاع عظمته في الأرض میں وہ ذکر جمیل اور ستائش کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔اور آسمان کے رب کے حکم سے اُس کی عظمت تمام روئے زمین پر پھیلا دی جائیگی۔اور حضرت کبریاء کی بأمر رب السماء ، ويعان من حضرة جناب سے اس کی مدد کی جائیگی۔اور فوج در فوج الكبرياء۔وتأتيه من كل فج عميق ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح کثرت سے أفواج بعد أفواج، كبحر مواج لوگ اس کے پاس ہر گہرے راستہ سے آئیں گے۔ہر حتى يكاد أن يسأم من كثرتهم، قریب ہے کہ ان کی اس کثرت سے وہ اکتا جائے