الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 4
ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء صلى الله وما وجد في عمله شيء يخالف اور اس کے عمل میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی جو سنة خير الأنبياء ، بل يؤمن بكل خير الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالف ہو۔ما جاء به الرسول الكريم من بلکہ وہ ان تمام احکام اور پیش گوئیوں پر ایمان رکھتا الأحكام والانباء ، وبكل ما ثبت ہے جو رسول کریم لے کر آئے تھے۔اور ہر اس بات پر من نبينا سيد الأتقياء۔وإنه من ایمان رکھتا ہے جو تمام متقیوں کے سردار ہمارے نبی أساة الهوى، وقد أسا جُرح ) سے ثابت ہے۔اور وہ ایمان رکھتا ہے کہ الذنوب وداوى، وجاء ليؤسى آپ نفسانی خواہشات کے معالج ہیں۔آپ نے بين الورى، ويوصل بالأمة تمام گناہوں کے زخموں کا علاج اور مداوا کیا اور آپ اس لئے تشریف لائے تا کہ آپ تمام جہان کی الآخرة أممًا أولى ولو بغيت له اصلاح فرما دیں۔اور آخری امت کا رشتہ پہلی الأسى، لوجدت فيه أسوة امتوں سے جوڑیں۔اور اگر تو اس کے اعمال کے المصطفى، يقتدى به في كلّ نمونہ کا متلاشی ہے تو ضرور اُس میں مصطفی کا اُسوہ پائے گا۔ہدایت کی تمام راہوں میں وہ آپ کی پیروی السعى وسقطوا عليه كالبلاء ، کرتا ہے۔دشمنوں نے پوری کوشش کی اور بلا کی طرح سنن الهدى۔وسعى العدا كلّ وتقصوا أمره بكل الاستقصاء ، 6 اس پر ٹوٹ پڑے۔اور اس کے معاملہ کی پوری چھان ليجدوا فيه نقصا أو يَعْثِرُوا على بین کی تاکہ اس کے کسی ایسے قول پر اطلاع پاویں قول منه فيه مخالفة الملة الغراء جس میں ملت بیضاء کی مخالفت ہو۔اور بمقتضائے وخاضوا في سوانحه من مقتضی بغض و عناد وہ اس کے سوانح کے مطالعہ میں جت گئے البغض والشحناء۔فما وجدوا مع لیکن اپنی شدت عداوت کے باوجود وہ جرح و قدح شدة عداوتهم سبيلا إلى القدح اور نکتہ چینی اور تحقیر کے لئے کوئی راہ نہ پا سکے۔والزرى والازدراء ، ولا طريق عمل اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا طریق کار پایا جسے يُحمل على الأغراض والأهواء۔خود غرضی اور خواہشات پر محمول کیا جا سکے۔