الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 67
ضميمه حقيقة الوحي ۶۷ الاستفتاء 2 وكم من لص نهب أموال الدین اور کتنے ہی چور اچکے ہیں جنہوں نے دین کے أفلا تشاهدون؟ فما زعمكم۔۔ اموال کو لوٹ لیا ہے کیا تم مشاہدہ نہیں کرتے ؟۔ ألم يأن وقت نصرة الرحمن ؟ تمہارا کیا خیال ہے کیا اب بھی رحمان خدا کی مدد کا كلا۔۔ بل جاءت أيام فضل الله وقت نہیں آیا۔ نہیں ہر گز نہیں بلکہ اللہ کے فضل و والإحسان۔ وما جئتكم من غير احسان کے دن آگئے ہیں۔ اور میں واضح دلیل سلطان مبين، وعندى شهادات کے بغیر تمہاری طرف نہیں آیا جبکہ میرے پاس اللہ من الله تزيد يقينا علی یقین کی طرف سے آنے والی شہادتیں موجود ہیں جو وكنتُ في حَيِّةِ قومی کمیت، یقین پر یقین کو بڑھاتی ہیں۔ اور میں اپنی قوم کے وبيت كلا بيت۔ وكنت مستورا زندوں میں ایک مردہ کی طرح تھا اور گھر میں بھی ۲۸ غير معروف، لا يعرفني أحد في بے گھر تھا۔ لوگوں کی نگاہوں سے نہاں اور غیر القرية، إلا قليل من الطائفة۔ معروف خود قادیان کی بستی میں چند لوگوں کے سوا وكنت أعيش في زاوية الكتمان مجھے کوئی نہ جانتا تھا اور میں گوشتہ گمنامی میں زندگی لا يجيئنــي أحد من الرجال بسر کر رہا تھا۔ مرد وزن میں سے کوئی بھی میرے والنسوان۔ وكنت مخفيا من أهل پاس نہیں آتا تھا۔اور میں زمانے کے لوگوں میں الزمان، ما قصدت بلدةً من پوشیدہ تھا۔ میں کسی بھی ملک میں نہیں گیا اور نہ ہی البلدان، وما جُبْتُ الآفاق، وما میں نے دنیا جہاں کے سفر کئے تھے۔ نہ عرب دیکھا رأيت العرب وما تقصّيت تھا اور نہ عراق کا نہ عراق کا رخ کیا تھا۔ اور اللہ کی قسم! مجھے العراق۔ وما كان لي، والله، سعة وسعت مال بھی میسر نہ تھی۔ میں نے زمانے کی المال، وما ارتضعت من الدهر (چھاتی سے دودھ نہیں پیا ہاں ایک بانجھ کے پستان إلَّا ثدى عقيم لا يُرجى منه لبن سے، جس سے کامل دودھ کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ الكمال، وما ركبتُ إِلَّا ظهر اور میں نے صرف ایسے جانور کی پشت پر سواری بهيم ليس فيه شِيَةُ يُسْرِ الحال کی جس میں شان و شوکت کی کوئی علامت نہ تھی۔