الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 68

ضمیمه حقيقة الوحي ۶۸ الاستفتاء فبشرني ربي في تلك الزمن بأنه پس میرے رب نے اُس زمانے میں مجھے بشارت سيكفيني في جميع المهمات دی کہ وہ بہت جلد تمام مہمات میں میرے لئے ويفتح على باب كل نعمة من کافی ہوگا اور سرفرازیوں کی ہر نعمت کا دروازہ مجھ پر التفضّلات۔وكما ذكرت، کان کھول دے گا۔اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے یہ ذالك الوقت وقت العُسر وقت بڑی تنگی اور طرح طرح کی حاجات کا وقت وأنواع الحاجات، وبشرنی ربّی تھا۔(ایسے وقت میں ) میرے رب نے میرے بتسهيل أمورى وتيیسیر مناهجی تمام امور اور میری راہوں میں سہولت اور آسانی وتكفله بكل حوائجی۔فعند پیدا کرنے کی اور میری تمام ضروتوں کا خود کفیل ذالك وفي زمن أبعد من أمن ہونے کی مجھے بشارت دی۔سو اس وقت اور امن أمرت أن يُصنع خاتم فيه نقوش سے دور زمانے میں مجھے حکم دیا گیا کہ ایک ایسی هذه الأنباء ، ليكون عند ظهورها انگوٹھی بنائی جائے جس میں ان پیش گوئیوں کے آية للطلباء ، وحُجّة على الأعداء نقوش ہوں تا کہ وہ ان ( خوشخبریوں) کے ظہور کے موجود وهذا نقشه وقت متلاشیان حق کے لئے ایک نشان اور دشمنوں پر يا أهل الآراء ثم فَعَلَ حجت ہو۔اے اہل رائے ! یہ انگوٹھی موجود ہے اور الله كما وَعَدَ ومَطَرَ سحابُ یہ اس کا نقش ہے پھر اللہ نے اپنے وعدہ کے موافق فضله كما رَعَدَ، وجعل الله حبّةً کیا اور اس کے فضل کا بادل جیسے گر جاویسے ہی برسا صغيرة أشجارًا باسقة وأثمارًا اور اللہ نے چھوٹے سے بیچ کو اونچے درخت اور پکے يانعة۔ولا سبيل إلى الإنكار ، ہوئے پھل بنا دیا اور اس سے کوئی جائے انکار نہیں قد مضى على صُنع هذا الخاتم أزيد من ہے اس انگوٹھی کو بنے ہوئے تمہیں سال سے اوپر ہو گئے ہیں اور وہ حمید ثلاثين سنة، ومـا ضـاع إلـى هـذا الوقت فضلا اب تک خدا کے فضل ور رحمت سے ضائع نہیں ہوئی۔اور اُس زمانہ ضائع من الله ورحمة۔وما كان في ذالك الزمن أثر میں میری عزت کا کوئی نشان اور میری شہرت کا کوئی ذکر تک نہ تھاور من عزّتى، ولا ذكر من شهرتي، وكنتُ في زاوية الخمول، محروما من الإعزاز والقبول۔منه میں گمنامی کے گوشہ میں اعزاز اور قبولیت سے محروم تھا۔منہ