الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 66

ضمیمه حقيقة الوحي ۶۶ الاستفتاء وتجاوز الوباء من أهل دار، إلى اور وبا اہل خانہ سے نکل کر اڑوس پڑوس تک جا من كان في جوار ، ودعا الحَينُ پہنچی ہے۔اور موت نے مرنے والے کو اسی طرح أخاه، بمثل ما دعاه۔ووُطِئ پکارا جیسے اس نے اُسے دعوت دی تھی اور دین الدين تحت أقدام عَبَدَةِ إِنسان انسان پرستوں کے قدموں تلے روند دیا گیا ہے اور وصال الأعداء عليه كثعبان، دشمنوں نے اس پر اثر دھا کی طرح حملہ کیا۔یہاں حتى صار كقرية يُطرقها السيل تک کہ وہ ایک ایسی بستی کی طرح ہو گیا جسے سیلاب أو كأرض تعدو عليها الخیل نے تباہ و برباد کر دیا ہو یا اس زمین کی طرح جس پر هناك رأى الله أن الأرض گھوڑے چڑھ دوڑے ہوں۔اس موقع پر اللہ نے خربت، و خیالات الناس یہ دیکھا کہ زمین ویران ہوگئی ہے۔اور لوگوں کے فسدت، وما بقى فيهم إلَّا أمانى خیالات بگڑ گئے ہیں۔اور ان میں صرف دنیا کی الدُّنيا وأهواؤها ، وتمايل عليها خواہشات اور ہوا و ہوس باقی رہ گئے ہیں۔اور أبناؤها۔فعند ذالک أقامنی دنیا دار اس پر جھک گئے ہیں۔پس ایسے وقت میں فيكم لتجديد الدين، وإصلاح اللہ نے تمہارے درمیان مجھے تجدید دین اور ملت کی الملة والتزيين۔فانظروا، اصلاح و تزئین کے لئے کھڑا کیا۔پس غور کرو اللہ رحمكم الله، اجنتکم فی غیر تم پر رحم فرمائے۔کیا میں تمہارے پاس مفتریوں کی المحلّ كالمفترين، أو أدركتكم طرح بے محل آ گیا ہوں ؟ یا کہ میں شیطانوں کی چھینا جھپٹی کے وقت تمہاری مدد کے لئے آپہنچا ہوں۔واعـلـمـوا هـداكـم الله، أن جان لو اللہ تمہیں ہدایت دے کہ یہ معاملہ اللہ هذا الأمر بقضاء من الله وقدره، کی قضاوقد ر سے ہے۔اور یہ نور کسی ظلمت سے وهذا النور ليس من ظلمة نہیں بلکہ اس بدر کامل (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بل من بدره و کم من ذئب ہے۔کتنے ہی بھیڑیے ہیں جنہوں نے اللہ کے افترس عباد الله، أفلا تنظرون؟ بندوں کو چیر پھاڑ دیا کیا تم غور نہیں کرتے؟ عند نهب الشياطين؟ |