الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 46
ضميمه حقيقة الوحى ۴۶ الاستفتاء ليجعل الله ذالک حسرةً تاکہ اللہ اسے ان کے لئے حسرت کا موجب بنائے۔ عليهم، وإن الله لا يجعل على اور یقیناً اللہ کافروں کو مومنوں پر غلبہ نہیں دیتا۔ المؤمنين سبيلا للكفار۔ وما اور اللہ نے ان کے بارے میں اسے جو تقدیر شر ادرؤوا عن أنفسهم ما أنبأه الله کی خبر دی تھی وہ (اسے) اپنے آپ سے دور نہ کر فيهم من سوء الأقدار ۔ وبشر الله سکے اور اللہ نے اپنے اس مامور بندہ کو بشارت دی هذا العبد المأمور بأنه يكون فی کہ وہ ( ہمیشہ ) اس کی حفظ وامان میں ہوگا۔ اور أمانه وحرزه، ولا يضره من عاداه شریر لوگوں میں سے جو اس کے ساتھ دشمنی کرے گا من الأشرار، ويعيش تحت فضل وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور وہ غفار خدا الله الغفار۔ فكذالك عصمه کے فضل کے زیر سایہ زندگی گزارے گا۔ سو اسی الله تحت حمايته، ورحب به في طرح اللہ نے اسے بچائے رکھا اور اپنی بارگاہ میں حضرته، وصار على عداه اس کی پذیرائی فرمائی اور وہ اس کے دشمنوں کے كالسيف البتار۔ وأعانه في كُلّ مقابل ایک شمشیر قاطع کی طرح ہو گیا اور ہر میدان موطنٍ كالرفيق، ونقله إلى السعة میں دوست کی طرح اس کی مدد کی اور اسے تنگی سے من الضيق، وجعل له الأرض فراخی کی طرف منتقل کیا اور اس کے لئے زمین کو كواد خضر أو روض مملوة من ایک سرسبز وادی کی طرح یا پھلوں سے خوب لدے الثمار۔ ووضع البركة فی ہوئے ایک باغ کی طرح بنا دیا اور اس کے انفاس میں أنفاسه، وطهره من أدناسه برکت رکھ دی اور اسے اس کی میل سے پاک صاف وأوصل إلى الأقطار ضوء کیا اور اس کے چراغ کی روشنی زمین کے کناروں نبراسه۔ فرجع إليه كثير من تک پہنچائی۔ جس کے نتیجہ میں بہت سے نیک الأبرار، وهجروا أوطانهم لوگوں نے اس کی طرف رجوع کیا اور انہوں نے في الله تعالى، وأوطنوا قريته الله تعالى کی خاطر اپنے وطن چھوڑ دیئے اور غفار خدا طمعا في رحمة الله الغفّار کی رحمت کی امید میں اس کی بستی کو اپنا وطن بنالیا۔