الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 47
ضمیمه حقيقة الوحي ۴۷ الاستفتاء فاشتعل الـعـدا حسدًا من عند اس پر دشمن اپنے اندرونی حسد کے باعث مشتعل أنفسهم، ومكروا كل مكر، فما ہو گئے اور ہر طرح کی تدبیریں کیں لیکن ان کی ہر مكرهم إلا كالغبار۔تدبير غبار کی طرح اڑ گئی۔انہوں نے ہر ترکش سے وأخرجوا من كلّ كنانة سهمًا، تیر نکالا لیکن ان کا حصہ اللہ کی طرف سے تباہی کے فما كان سهمهم من الله إلا سوا کچھ نہ نکلا۔اور وہ اس کے خلاف متحد ہو گئے اور التبار۔وأجمعوا له ورموا من ایک ہی کمان سے اس پر تیر برسائے مگر وہ اللہ کا قوس واحد، فانقلب بفضل من فضل لے کر لوٹا اور تمام دنیا میں اس کی عزت بڑھ الله، وزادت عِزّته في الديار۔گئی۔اس طرح اللہ نے اپنے بندہ کی نصرت فرمائی وکذالک نصر الله عبده، وصَدَق اور اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور خود اپنی جناب سے اس وعده، وهياً له من لدنه كثيرًا من کے لئے بہت سے مدد گار مہیا فرما دیئے اور اسے الأنصار۔وبشره بأنه يعصمه من بشارت دی کہ وہ اسے دشمنوں کے ہاتھوں سے أيدى العــدا، ويسطو بكل من محفوظ رکھے گا اور جو اس پر حملہ کرے گا وہ اس پر ا، وكذالك أنجز وعدہ حملہ آور ہوگا۔اور یوں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور سطا، و حفظه من كلّ نوع الضرار۔اسے ہر طرح کے ضرر سے محفوظ رکھا۔وجعله مصطفى مبرئًا من كلّ اور اللہ نے اسے میل سے پاک صاف کر کے برگزیدہ دنس وزگی، وقربه نجيا و أوحى کیا اور (اس کا) تزکیہ فرمایا۔اور راز داں بنا کر اپنا (۲۰) إليـه مـا أوحى، وعلمه من لدنه مقرب بنایا اور اس کی طرف وحی کی جو بھی وحی کی۔طريق الرشد والهُدى وجمع له اور اسے اپنی جناب سے رشد و ہدایت کا طریق سکھایا۔كل آية من الأرض والسماوات اور اس کے لئے زمین سے اور بلند و بالا آسمانوں سے العلى، وكف عنه شرّ أعدائه ہر نشان جمع کیا۔اور اس کے دشمنوں کا شر اُس سے دور وأسس كل أمره على التقوی کیا۔اور اس کے ہر معاملہ کی بنیاد تقویٰ پر رکھی اور وأصلح شؤونه بعد تشتت شملها، پراگندہ حالی کے بعد اس کے تمام معاملات کو سلجھا دیا