الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 45
ضمیمه حقيقة الوحي ۴۵ الاستفتاء ولا يدخلون دار الحق بل وہ خود حق کے گھر میں داخل نہیں ہوتے بلکہ اسے يمنعون من يريد أن يدخلها ولا بھی روکتے ہیں جو اس میں داخل ہونے کا يأبى۔فغضب الله۔عليهم، وقطع خواہاں ہو اور انکاری نہ ہو۔پس اللہ ان پر لهم ثيابًا من النار، وسعر عليهم غضبناک ہوا اور اس نے ان کے لئے آگ کا سعير الحسرات، فلم يملكوا لباس تیار کیا اور ان پر حسرت کی آگ بھڑکائی تو صبرًا، ولم يدفعوا عنهم أوار نہ تو انہیں اسے برداشت کرنے کا یارا رہا اور نہ الاضطرار۔وما كان لهم ملجاً ہی وہ بے چینی اور بیقراری کی تپش اپنے آپ من سخط الله، ولا مَن ينجى من ولا من ينجى من سے دور کر سکے خواہ وہ اپنے دائیں بائیں نظر البوار ولو نظروا ذات الیمین ڈالیں انہیں کوئی شخص ایسا نہ مل سکا جو انہیں اللہ کی وذات اليسار۔فكان مالهم ناراضگی اور ہلاکت سے نجات بخشے۔پس ان کا ( 19 ) الخسران و الخسار ، والذُّل انجام گھاٹا ہی گھاٹا اور ذلت و پستی ہے۔اور والصغار۔وطاشت سهامهم التی انہوں نے جو تیر اس بندہ پر چلائے وہ خطا گئے رموا إلى هذا العبد، وحفظه الله اور اللہ نے اسے ان کے شر سے محفوظ رکھا اور هم، وأدخله في حمى اسے امن کی پناہ گاہ میں اور سکینت کے گھر میں الأمن ودار القرار۔وقد نفضوا داخل کیا۔انہوں نے اس غرض سے اپنے ترکش الكنائن ليردوا القدر الكائن خالی کر دیئے کہ وہ ہو کر رہنے والی تقدیر کو ٹال وأرادوا أن يُطفئوا بأفواههم ما دیں اور چاہا کہ وہ نازل ہونے والے انوار کو نزل من الأنوار، وسقطوا اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھائیں اور وہ ایک كصخرة عليه، وودوا لو تُسوى چٹان کی طرح اس پر گرے اور اسے پیوند زمین به الأرض أو تخرّ عليه الجبال کرنے کی خواہش کی یا یہ چاہا کہ اس پر پہاڑ ٹوٹیں لئلا يبقى من الآثار فنصره تا کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہ رہے لیکن اللہ اللــه نــصـــرا عـزيـزا من عنده، نے اپنی جناب سے اس کی غلبے والی نصرت فرمائی