الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 38
ضميمه حقيقة الوحي ۳۸ الاستفتاء و من عاداه نزل لحربه ونصر اور جس نے اس سے دشمنی کی اللہ اس سے جنگ کرنے عبده كما ينصر المخلصون؟ کے لئے میدان میں اتر آیا۔ اور اس نے اپنے بندے أيها الفتيان ۔۔ أفتُونى فى هذا کی ایسے مدد کی جیسے مخلصوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اے وأروني مفتريا أنعم الله عليه عزیز و! اس کے بارہ میں مجھے فتوی دو اور مجھے کوئی ایسا كمثل هذا العبد وتفضل عليه مفتری دکھاؤ جس پر اللہ نے اس بندہ کی طرح انعام کیا كمثله، واتقوا الله الذى إليه ہو۔ اور جس پر اس بندہ کی مانند احسان کیا ہو۔ اور اللہ کا ترجعون ۔ تقوی اختیار کرو جس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ثم أستفتى منكم أيها العلماء پھر اے عالمو ! اور فاضلو ! میں تم سے پھر فتویٰ والفضلاء، فلا تقولوا إِلَّا حقًا، واتقوا طلب کرتا ہوں ۔ پس تم سچ ہی کہو اور اللہ سے ڈرو الله الذي بيده الجزاء ۔ وتعلمون کہ جس کے ہاتھ میں جزا سزا ہے۔ اور تم جانتے ہو أن الصالحين لا يكذبون، ولا يكون نیک لوگ جھوٹ نہیں بولا کرتے اور حق پوشی من عادتهم الإخفاء ، ولا يخفى حقا ان کی عادت نہیں ہوتی۔ حق بات کو وہی شخص إلا الذي حتم عليه الشقاء ۔ چھپاتا ہے جس کے لئے بدبختی مقدر ہو چکی ہو۔ أيها الفتيان وفقهاء الزمان اے عزیزو ! اے زمانے کے فقیہو ! اور اے علماء وعلماء الدهر وفضلاء وقت ! اور اے دیار و امصار کے فضلاء ! مجھے فتوی دو ایسے شخص کے متعلق جس نے اللہ کی طرف سے آنے البلدان أفتوني في رجل قال إنه من الله، وظهرت له حماية الله کا دعوی کیا اور اس کے لئے اللہ کی حمایت دو پہر کے سورج کی طرح ظاہر ہوئی۔ اور اس کی سچائی کے ا كشمس الضحى، وتجلت أنوار انوار تاریکی کے چودھویں کے چاند کی طرح جلوہ گر صدقه كبدر الدجى، وأرى ہوئے ہیں۔ اور اللہ نے اس کی خاطر روشن نشان الله له له آيات باهرات، وقام دکھائے اور ہر اس معاملہ میں جس کا اس بندہ نے لنصرته في كلّ أمر قضی، فیصلہ کیا وہ (اللہ ) اس کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔