الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 220

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۰ الاستفتاء ۹۲ تَبْغِى تَبَارِى وَالدَّوَائِرَ مِنْ هَوى فَعَلَيْكَ يَسْقُطُ حَجُرُ كُلِّ بَلَاءِ تو ہوائے نفس سے میری تباہی اور گردشیں چاہتا ہے، سو تجھ پر ہر مصیبت کا پتھر پڑ رہا ہے اور پڑے گا۔إِنِّي مِنَ الْمَوْلى فَكَيْفَ أَتَبَّرُ فَاخْشَ الْغَيُورَ وَلَا تَمُتُ بِجَفَاءِ میں تو خدا کی جانب سے ہوں پس میں کس طرح ہلاک ہو سکتا ہوں۔تو غیور خدا سے ڈراور (اپنے) ظلم سے ہلاک نہ ہو۔اَفَتَضْرِبَنَّ عَلَى الصَّفَاتِ زُجَاجَةً لَا تَنتَهِمْ وَاطْلُبُ طَرِيقَ بَقَاءِ کیا تو پتھر پر شیشے کو مار رہا ہے ؟ خود کشی نہ کر اور زندگی کی راہ تلاش کر۔اُتُرُكُ سَبِيْلَ شَرَارَةٍ وَخَبَاثَةٍ هَوِّنُ عَلَيْكَ وَلَا تَمُتُ بِعَنَاءِ شتر اور خباثت کا راستہ چھوڑ دے۔ہوش سے کام لے اور مشقت ހނ ہلاک نہ ہو۔تُبْ أَيُّهَا الْغَالِي وَتَأْتِي سَاعَةٌ تُمْسِى تَعَضُّ يَمِيْنَكَ الشَّلَاءِ اے غلو کر نے والے! تو بہ کر۔جب کہ وہ گھڑی آ رہی ہے کہ تو اپنے مفلوج دائیں ہاتھ کو دانتوں سے کاٹنے لگے گا۔يَالَيْتَ مَا وَلَدَتْ كَمِثْلِكَ حَامِلٌ خُفَّاشَ ظُلُمَاتٍ عَدُوَّ ضِيَاءِ کاش کہ کوئی ماں تیرے جیسا ظلمتوں کا چمگادڑ اور روشنی کا دشمن نہ جنتی۔تَسْعَى لِتَأْخُذَنِي الْحُكُومَةُ مُجْرِمًا وَيْلٌ لَّكُلّ مُزَوِّرٍ وَّشَـ تو کوشش کر رہا ہے کہ حکومت مجھے مجرم سمجھ کر گرفتار کرے۔ہر فریبی ، چغل خور پر پھٹکار ہے۔(٩٣ لَوْكُنتُ أعْطِيتُ الْوَلَاءَ لَعِفْتُهُ مَالِي وَ دُنْيَاكُمُ كَفَانِ كِسَائِي اگر مجھے حکومت بھی دی جاتی تو میں اسے نا پسند کرتا۔میرا تمہاری دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرے لئے تو میری کملی ہی کافی ہے۔مِتْنَابِمَوْتٍ لَّا يَرَاهُ عَدُونَا بَعُدَتْ جَنَازَتُنَا مِنَ الْأَحْيَاءِ ہم تو ایسی موت مر گئے ہیں جس کی حقیقت ہمارا دشمن نہیں جانتا اور ہمارا جنازہ زندوں ( کی نگاہوں ) سے دور پڑا ہوا ہے۔تُغْرِى بِقَولٍ مُفْتَرَى وَتَخَرُّصٍ حُكَـامَـنَـا الظَّانِينَ كَالْجُهَلَاءِ تو افتراء اور اٹکل سے اُکسا رہا ہے ہمارے ان حکام کو جو ناواقفوں کی طرح بدظن ہیں۔يَا أَيُّهَا الأَعْمَى اَتُنْكِرُ قَادِرًا يَحْمِيُّ أَحِبَّتَهُ مِنَ الْاِيُوَاءِ اے اندھے! کیا تو اس قادر کا انکار کرتا ہے جو اپنے پاس جگہ دے کر اپنے محبوں کی حمایت کرتا ہے۔ید سہو کتابت معلوم ہوتی ہے۔درست تنتحر ہے۔فارسی ترجمے سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔(ناشر)