الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 221

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۱ الاستفتاء اَنَيسُتَ كَيْفَ حَمَا الْقَدِيرُ كَلِيْمَهُ أَوَمَا سَمِعْتَ مَالَ شَمْسِ حِرَاءِ کیا تو بھول گیا ہے کہ کس طرح قادر خدا نے اپنے کلیم موسی کی حمایت کی۔اور کیا تو نے غار حراء کے سورج کے انجام کو نہیں سنا۔نَحْوَ السَّمَاءِ وَاَمْرِهَا لَا تَنْظُرَنَ فِي الْأَرْضِ دُمَّتُ عَيْنُكَ الْعَمْيَاءِ تیری نگاہ آسمان اور اس کے حکم کی طرف ہرگز نہیں جائے گی کیونکہ تیری نابینا آنکھ تو زمین میں دھنسی ہوئی ہے۔غَرَّتُكَ أَقْوَالٌ بِغَيْرِ بَصِيرَةٍ سُتِرَتْ عَلَيْكَ حَقِيْقَةُ الْأَنْبَاءِ تجھے عدم بصیرت کی وجہ سے بعض باتوں نے دھوکہ دیا ہے اور تجھ پر آئندہ کی خبروں کی حقیقت پوشیدہ ہو گئی ہے۔أَدْخَلْتَ حِزْبَكَ فِي قَلِيبِ ضَلَالَةٍ افهذِهِ مِنْ سِيْرَةِ الصُّلَحَاءِ تو نے اپنے گروہ کو ضلالت کے کنوئیں میں ڈال دیا ہے۔کیا نیکوں کی سیرت ایسی ہی ہوتی ہے؟ جَاوَزْتَ بِالتَّكْفِيرِ مِنْ حَدٌ التَّقَى اَشَقَقْتَ قَلْبِي أَوْ رَأَيْتَ خِفَائِي تو تکفیر کر کے تقویٰ کی حد سے تجاوز کر گیا ہے کیا تو نے میرا دل پھاڑ کر دیکھا ہے یا میرے اندرونے کو دیکھ لیا ہے؟ كَمِّلُ بِخُبُثِكَ كُلَّ كَيْدِ تَقْصِدُ وَاللَّـهُ يَكْفِي الْعَبْدَ لِلاِرْزَاءِ ہر مکر جو تو کرنا چاہتا ہے اپنی خباثت سے کمال تک پہنچا دے۔اور اپنے بندے کو پناہ دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔تَأْتِيكَ آيَاتِي فَتَعْرِفُ وَجْهَهَا فَاصْبِرُ وَلَا تَتْرُكُ طَرِيقَ حَيَاءِ میرے نشان تیرے پاس آئیں گے پس تو ان کی حقیقت کو پہچان لے گا۔پس صبر کر اور حیا کا طریق نہ چھوڑ۔إِنِّي كَتَبْتُ الْكُتُبَ مِثْلَ خَوَارِقِ انْظُرُ اَعِندَكَ مَا يَصُوبُ كَمَائِي میں نے معجزات کے رنگ میں کتابیں لکھی ہیں۔دیکھ کیا تیرے پاس ایسا پانی ہے جو میرے پانی کی طرح بر سے۔اِنْ كَنُتَ تَقْدِرُ يَا خَصِيمِ كَقُدْرَتِي فَاكُتُبُ كَمِثْلِي قَاعِدًا بِحِذَائِي اے میرے مخاصم! اگر تو میری طرح قدرت رکھتا ہے تو میری طرح میرے سامنے بیٹھ کر لکھ۔ا كُنتَ تَرْضَى أَنْ تُسَمَّى جَاهِلًا فَالآنَ كَيْفَ فَعَدْتَ كَاللَّكْنَاءِ ہے۔تو تو جاہل کہلانے پر راضی نہ تھا سو اب تو ژولیده زبان عورت کی طرح کیسے بیٹھ گیا قَدْ قُلْتَ لِلسُّفَهَاءِ إِنَّ كِتَابَهُ عَفُصٌ يَهِيجُ الْقَيْءَ مِنْ اِصْغَاءِ تو نے بیوقوفوں سے کہا کہ اس کی کتاب بدمزہ ہے جس کے سننے سے گئے آتی ہے۔۰۹۳