الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 219
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱۹ الاستفتاء و ہے۔مَنْ أَنْكَرَ الْحَقَّ الْمُبِيْنَ فَإِنَّهُ كَلْبٌ وَعَقَبَ الْكَلْبِ سِرُبُ ضِرَاءِ جس نے کھلے کھلے حق کا انکار کیا تو وہ کہتا ہے اس حالت میں کہ اس کتے کے پیچھے شکاری کتوں کا ایک گروہ چلا آ رہا ہے۔اذَوْا وَ سَبُّوْنِي وَقَالُوا كَافِرٌ فَالْيَوْمَ نَقْضِي دَيْنَهُمْ بِرِبَاءِ انہوں نے مجھے ایذا دی اور گالیاں دیں اور کہا کہ یہ کافر ہے۔آج ہم ان کا قرضہ مع سود ادا کر رہے ہیں۔وَاللَّهِ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ بِفَضْلِهِ لَكِنْ نَرَى جَهَلٌ عَلَى الْعُلَمَاءِ خدا کی قسم ! ہم اس کے فضل سے مسلمان ہیں لیکن جہالت علماء کے سر پر سوار ہو ہو گئی نَخْتَارُ اثَارَ النَّبِيِّ وَأَمْرَهُ نَقُفُرُ كِتَابَ اللهِ لَا الْأَرَاءِ تم نبی اکرم ﷺ کے آثار اور آپ کے حکم کو اختیار کر رہے ہیں۔ہم کتاب اللہ کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ دوسری آراء کی۔ا بُرَاءٌ فِي مَنَاهِجِ دِينِهِ مِنْ كُلِّ زِندِيقٍ عَدَةٍ دَهَاءِ ہم اس کے دین کی راہوں میں ہر زندیق اور عقل کے دشمن سے بیزار ہیں۔إِنَّا نُطِيعُ مُحَمَّدًا خَيْرَ الْوَرَى نُورَ الْمُهَيْمِنِ دَافِعَ الظَّلَمَا ہم محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں جو مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، خدائے مہیمن کا نور ہیں اور ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ا فَنَحْنُ مِنْ قَوْمِ النَّصَارَى اَكْفَرُ وَيُلٌ لَّكُمْ وَلِهَذِهِ الْأَرَاءِ تو کیا ہم قوم نصاری سے بھی زیادہ کافر ہیں۔تف ہے تم پر اور تمہاری ان آراء يَا شَيْخَ أَرْضِ الْخُبُثِ اَرْضِ بَطَالَةٍ كَفَّرُتَنِي بِالْبُغْضِ وَالشَّحُنَاءِ پر۔ہے۔اے بٹالہ کی خبیث زمین کے شیخ ! تو نے کینہ اور بغض سے میری تکفیر کی اذَيْتَنِي فَاخْشَ الْعَوَاقِبَ بَعْدَهُ وَالنَّارُ قَدْ تَبْدُو مِنَ الْإِيرَاءِ تو نے مجھے ایذا دی ہے پس اب تو اس کے بعد عواقب سے ڈر اور آگ سلگانے سے اکثر بھڑک ہی اٹھتی ہے۔تَبَّتْ يَدَاكَ تَبِعْتَ كُلَّ مَفَاسِدٍ زَلتُ بِكَ الْقَدَمَانِ فِي الْأَنْحَاءِ تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں۔تو نے ہر قسم کے فساد کی پیروی کی۔مختلف اطراف میں تیرے قدموں نے لغزش کھائی۔اَوُدَى شَبَابُكَ وَالنَّوَائِبُ اَخْرَفَتْ فَالْوَقْتُ وَقْتُ الْعَجُزِ لَا الْخُيَلَاءِ تیری جوانی ضائع ہو گئی اور حوادث نے تیری عقل مار دی ہے۔سو یہ وقت عاجزی کا ہے نہ کہ تکبر کا۔