الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 179

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۷۹ الاستفتاء وكانوا قسی القلب لا يكرمون یہ سکھ قوم بڑی سنگدل تھی۔شرفاء کی عزت نہ کرتے الشرفاء ، ولا يرحمون الضعفاء ، تھے اور کمزوروں پر رحم نہ کرتے تھے۔جب بھی کسی وكُلّما دخلوا قريةً أفسدوها، بستی میں داخل ہوئے تو اسے انہوں نے تباہ کر دیا وجعلوا أعِزَةَ أهلها أذِلّة ، اور اس کے معززین کو ذلیل کر دیا۔ان کے ظلم سے فصارت من جورهم بُدُورُ اسلام کے بدر تام پہلی رات کا چاند بن گئے۔صلى الله الإسلام كالاهلة۔وكانوا من وه (سکھ) اسلام کے معاند اور خیر الانام ہی کی أعادى الإسلام، وأكبر أعداء ملّة امت کے سب سے بڑے دشمن تھے۔پس اس خير الأنام۔ففی تلک الأيام زمانے میں میرے آباء واجداد پر ان کمینوں کے صبت على آبائى المصائب من ہاتھوں مصائب کے اتنے پہاڑ ٹوٹے کہ وہ اپنی أيدى تلك اللئام، حتى أُخرجوا ریاست کے مرکز سے نکال دیئے گئے۔اور ان من مقام الرياسة، ونُهبت أموالهم كافروں کے ہاتھوں ان کے اموال چھین لئے من أيدى الكفرة، ونُصحوا من گئے۔اور انہیں طاقتوروں کی طرف سے دھکے جُيُود، وهجروا من ظل ممدود، دیئے گئے اور لمبے سایوں سے نکال کر دھوپ میں ولبثوا في أرض الغُربة إلى سنين ڈال دیئے گئے اور کئی سالوں تک پر دلیس وأوذوا إيذاءً شديدا من میں رہے۔اور انہیں ظالموں کے ہاتھوں شدید الظالمين، وما رحمهم أحد إلا تكاليف دى گئیں۔اور ارحم الراحمین کے سوا کسی نے الراحمين۔ثم ردّ الله إلى بھی ان پر رحم نہ کیا پھر اللہ نے حکومت برطانیہ کے أبى بعض القُرى في عهد الدولة عہد میں میرے والد کو چند گاؤں واپس لوٹائے۔البرطانية، فوجد قطرةً أو أقل پس انہوں نے ان کھوئی ہوئی املاک کے سمندر منها من بحر الأملاك الفانية۔میں سے ایک قطرہ بلکہ اس سے بھی کم تر پایا۔فخلاصة الكلام أن آبائي پس خلاصہ کلام یہ کہ میرے آباء نا کامی اور ماتوا بمرارة الخيبة والحسرات، حسرتوں کی تلخی کی حالت میں فوت ہوئے