الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 178
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۷۸ الاستفتاء ثم طرحتهم النواى مطارحها، پھر سفر نے انہیں دور دراز علاقے میں لا پھینکا۔اور سطت إليهم سيول السفر سفر کے سیل رواں نے اپنے جوارح ان تک پھیلا جوارحها، حتى إذا وطنوا أرض دیئے۔یہاں تک کہ جب ان کے قدم قادیان هذه البلدة التي تسمى بقادیان نامی اس بستی پر پڑے اور انہوں نے اس کو مبارک ورأوا هذه الخطة المباركة، والتربة خطہ اور اس زمین کو اچھا پایا اور انہیں اس کی آب و ہوا الطيبة، سرتهم ريحها وماؤها، اور اس کے شاداب سبزہ زار اچھے لگے تو وسوادها وخضراؤها، فألقوا فيها انہوں نے یہیں اپنے ڈیرے ڈال دیئے۔اور وہ عصا السيار، وكانوا يرجحون دیہی علاقوں کو شہروں پر ترجیح دیتے تھے۔اور اللہ البدو عـلـى الأمصار، ورزقوا فيها کی طرف سے انہیں جائیدادیں اور جاگیریں عطا من الله ضيعة وعقارًا، وملكوا قرّی کی گئیں۔اور وہ بستیوں اور شہروں کے مالک بن وأمصارًا۔ثم إذا مضى زمان علی گئے۔پھر جب اس آسودہ حالی پر ایک زمانہ گزر هذه الحالة، ونزل قضاء الله وقدرہ گیا اور سلطنت مغلیہ پر اللہ کی قضا وقدر نازل السلطنة المغليّة، أمرهم الله ہوئی تو اللہ نے ان ( میرے آباء ) کو علاقے کے في هذه الناحية، وانتهى الأمر إلى امراء بنا دیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ وہ اس أنهم صاروا كملک مستقل فی خطہ ارض کے خود مختار بادشاہ کی طرح ہو گئے اور هذه الخطة، وكان في يدهم من كل ہر جہت سے عنان حکومت ان کے ہاتھ میں تھی۔نهــج عـنـانُ الحكومة، وقضى الله اللہ اور اللہ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ان کی ہر وطرهم من الفضل والرحمة۔وبعد خواہش کو پورا فرمایا۔تازہ نعمت ، خوشحالی اور عزت ما زجوا زمـانـا طويلا في النعمة وشرف کی ایک لمبی زندگی گزارنے کے بعد اللہ والرفاهة، والشرف والنباهة، أخرج نے اپنی عمیق در عمیق مصلحتوں اور باریک در الله بمصالحه العميقة وحكمه باریک حکمتوں کے تحت ان پر ایک ایسی قوم الدقيقة قومًا يقال له الخالصه مسلط کر دی جسے خالصہ (سکھ) کہا جاتا ہے۔على