الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 180
2 ضمیمه حقيقة الوحي ۱۸۰ الاستفتاء بعدما كانوا كشجرة مملوّةٍ من بعد اس کے کہ وہ ایک پھلوں سے لدے ہوئے درخت الثمرات، وبعد أيام كانت کی طرح تھے ،اور ایسے زمانے کے بعد جو بجھی ہوئی كالعذارى المتبرجات۔فوجدتُ کنواریوں کی طرح تھا۔میں نے ان کی داستانوں کو قصصهم محل عبرة تسيل بذكرها ايسا كل عبرت پایا جس کے ذکر سے آنسو بہنے لگتے ہیں العبرات، ولا ترقأ عند تصوّرها اور ان کا تصور کر کے بہتے آنسو تھمنے کا نام نہیں الدموع الجاريات۔ولما رأيتُ ما لیتے۔اور جب میں نے یہ حالات دیکھے تو مجھ پر رقت رأيت، أخـذتـنــى الـرقة فبكيت طاری ہوگئی اور میں رو پڑا اور میں نے اپنے نفس سے یہ وناجيـت نـفـسـي بأن هذه الدنيا سرگوشی کی کہ یہ دنیا محض ایک بے وفا ہے جس کا انجام تلخ ليست إلا كـغـدار، وليس مآلها إلَّا ناکامی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔اور اس دنیا کے گھر نے مرارة خيبة و تبار۔وأرهقتنى دار مجھے اپنی تنگی سے انتہائی تکلیف میں ڈالا۔اور میرے دل الدنيا بضيقها، وألقى في قلبي أن أعاف بريقها، فصرف الله عنّى حبّ الدنيا ورؤية زينتها، والتمايل على میں یہ ڈالا گیا کہ میں اس کی چمک دمک کو نا پسند کروں۔پس اللہ نے دنیا کی محبت اور اس کی زینت کے دیدار اور اس کے درختوں اور پھلوں پر جھک جانے کو مجھ سے دور شجرتها وثمرتها۔وكنت أحب کر دیا۔اور میں گمنامی کو پسند کرتا اور گوشئہ خلوت کو ترجیح الخمول، وأؤثر زاوية الاختفاء ، دیتا تھا۔اور میں مجالس اور تُحجب و ریاء کے مواقع سے دور وأفرّ من المجالس ومواقع العُجب والرياء۔فأخرجنى الله من حجرتي، بھاگتا تھا لیکن اللہ نے مجھے میرے حجرے سے نکالا اور مجھے وعرفني في النَّاس ، وأنا كارة من لوگوں میں شہرت دی حالانکہ میں اپنی شہرت کو نا پسند کرتا شهرتي، وجعلني خليفة آخر تھا۔اور اس نے مجھے آخری زمانے کا خلیفہ اور اس وقت الزمان، وإمام هذا الأوان، وكلّمنی کا امام بنایا۔اور وہ بہت سے کلمات کے ساتھ مجھ سے بكلمات نذكر شيئا منها فى هذا ہمکلام ہوا جن میں سے کچھ ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں المقام، ونؤمن بها كما نؤمن بكتب اور ہم ان پر ویسا ہی ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ ہم خالق الله خالق الأنام۔وهي هذه كائنات اللہ کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔