الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 47

۴۷ الحُجَّةُ البالغة لا محالہ حضرت مسیح ناصری بھی اس فہرست میں داخل ماننے پڑیں گے۔بلکہ کیا بلحاظ اس کے کہ وہ زمانے کے لحاظ سے نبی کریم سالی یا ستم کے سب سے زیادہ قریب تھے اور کیا بلحاظ اس کے کہ انسانی خداؤں میں سے سب سے زیادہ مسیح کی پرستش کی جاتی ہے سب سے پہلا شخص جو اس فہرست کی ذیل میں آتا ہے وہ مسیح ہی ہے۔پس ثابت ہوا که مسیح خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں میں داخل ہیں جن کی نسبت خدا فرماتا ہے کہ :- أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ یعنی وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور وہ نہیں جانتے کہ ان کا بعث کب ہو گا۔“ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهلِ الكتب کی صحیح تفسیر مندرجہ بالا قرآنی آیات سے اچھی طرح واضح ہو چکا ہوگا کہ حضرت مسیح" آسمان پر تشریف نہیں لے گئے۔بلکہ عام آدمیوں کی طرح اپنی زندگی کے دن کاٹ کر زمین پر ہی وفات پاگئے۔مگر اس جگہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مخالف جس آیت سے مسیح کی حیات ثابت کرتے ہیں اس کی مختصر تشریح کر دی جاوے تا ہر طرح سے یہ مسئلہ صاف ہو جاوے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِن مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (سورة النساء رکوع ۲۲) اس آیت کے معنی غیر احمدی علماء عام طور پر اس طرح کرتے ہیں کہ : کوئی اہل کتاب میں سے نہیں مگر ایمان لائے گا مسیح پر مسیح کی موت سے پہلے جس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح " اب تک زندہ ہے اور آخری دنوں میں