الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 46

۴۶ الحجة البالغة أَمْوَاتُ غَيْرُ أَحْيَاءِ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ) ( سوره محل رکوع ۲) یعنی جن معبودوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ( یعنی ان کی عبادت کرتے ہیں) وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔وہ مُردہ ہیں زندہ نہیں ہیں اور وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ کب اُٹھائے جائیں گے۔یہ آیت اُن تمام اشخاص کی موت کی خبر دیتی ہے جو بطور معبود نبی کریم سال یہ تم کے زمانے میں پوجے جاتے تھے۔اور ظاہر ہے کہ مسیح “ انہی میں سے ایک ہے۔اگر بعض لوگ اس آیت کے متعلق یہ اعتراض کریں کہ اس میں بنوں وغیرہ کا ذکر ہے نہ کہ ان انسانوں کا جو بطور خدا کے پوجے جاتے ہیں تو یہ ایک صریح غلطی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں صاف فرماتا ہے: وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ یعنی جو لوگ پوجے جاتے ہیں وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کا بعث کب ہوگا۔اب ظاہر ہے کہ بعث پتھر کے بتوں وغیرہ کا تو نہیں ہوا کرتا بلکہ انسان کا ہی موت کے بعد بعث ہوگا۔علاوہ اس کے آیت میں الَّذِینَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی قواعد کی رو سے بے جان کے لئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ جاندار اور ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے بھی یہاں پتھر وغیرہ مراد نہیں ہو سکتے۔اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ یہ آیت ان انسانوں ہی کے متعلق ہے جو بطور معبود نبی کریم کے زمانے میں پوجے جاتے تھے تو