الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 48

۴۸ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آسمان سے نازل ہوگا اور اُس وقت سب کے سب اہل کتاب اُس پر ایمان لانے پر مجبور کئے جاویں گے لے لیکن اگر ہم ذرا غور سے کام لیں تو اس دلیل کا تمام پول کھل جاتا ہے۔قرآنِ شریف کے الفاظ ہیں إِن مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ جس کے معنی ہیں ”تمام کے تمام اہلِ کتاب بغیر استثناء کے۔اب اگر یہ فرض بھی کر لیا جاوے کہ جس وقت مسیح نازل ہوں گے اس وقت جتنے یہودی ہوں گے سب کے سب مسیح" پر ایمان لے آئیں گے تب بھی إِن مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ کا مفہوم پورا نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ لاکھوں کروڑوں یہودی جو اس آیت کے نزول اور مسیح کی آمد کے درمیان فوت ہو گئے ہوں گے وہ کس طرح ایمان لائیں گے؟ وہ تو بہر حال مستثنیٰ ہی رہیں گے مگر آیت کے الفاظ کسی استثناء کے متحمل نہیں ہیں۔لہذا معلوم ہوا کہ جو معنی اس آیت کے کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں۔علاوہ اس کے ہم قرآنِ مجید میں پڑھتے ہیں کہ :- فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (سوره مائده رکوع ۳) یعنی ہم نے یہود اور نصاری میں دشمنی اور بغض ڈال دیا ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہے گا۔66 اس سے ثابت ہوا کہ ایسا کوئی وقت نہیں آئے گا کہ جب یہود اور نصاریٰ بالکل معدوم ہو جائیں گے بلکہ وہ قیامت تک رہیں گے۔علاوہ اس آیت کے اور بھی بہت سی قرآنی آیات ہیں جو ہم کو صاف طور پر بتاتی ہیں کہ یہود قیامت تک رہیں گے اور بالکل معدوم کبھی نہیں ہوں گے۔پس آیت زیر بحث کے یہ معنی کرنا کہ کوئی ایسا وقت کے یہ معنی کرتے ہوئے ہمارے مخالف اتنا نہیں سوچتے کہ انہی یہود کے متعلق اس آیت سے چند آیات اوپر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا یؤمنون الا قليلا ” یعنی ان میں سے بہت کم ایمان لائیں گے۔پس اس محکم آیت کے ہوتے ہوئے آیت زیر بحث کے دوسرے معنی کس طرح کئے جاسکتے ہیں؟