الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 11

الحُجَّةُ البَالِغَةُ تعالیٰ نے نا کام کیا اور بجائے اس کے کہ مسیح ایک ملعون موت مرکز ہاویہ میں گرتا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف بلند کیا اور اس کو خدا کی طرف روحانی رفع حاصل ہوا۔ایسا روحانی رفع اللہ تعالیٰ کے تمام مقربین کو حاصل ہوتا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید فرماتا ہے:۔يَأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةٌ- فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي - (سوره فجر رکوع ۱) یعنی اے اطمینان یافتہ نفس لوٹ آ اپنے رب کی طرف اس حالت میں کہ تو خود بھی راضی ہو اور اللہ کو بھی راضی کر رہا ہو اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں ٹھکانا بنا۔“ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ تمام مقربین بارگاہ الہی کا اللہ کی طرف ہی رفع ہوا کرتا ہے۔پھر رفع کے معنی اس آیت سے بھی بالکل واضح ہو جاتے ہیں کہ : وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ( سورۃ اعراف رکوع ۲۲) خدا حضرت موسیٰ" کے ایک مخالف کے متعلق جو پہلے نیک ہوتا تھا اور جس کا نام روایتوں میں بلعم باعور بیان ہوا ہے فرماتا ہے کہ ”اگر ہم چاہتے تو اپنے نشانوں کے ذریعہ اس کا رفع کرتے لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیا۔“ اس جگہ مسلمہ طور پر رفع سے رفع روحانی مراد لیا جاتا ہے نہ کہ رفع جسمانی۔حالانکہ یہاں تو زمین کا مخالف قرینہ بھی موجود ہے تو پھر کیوں خواہ مخواہ حضرت مسیح ناصری کے بارے میں رفع سے رفع جسمانی مراد لیا جاوے خصوصاً جب کہ ہم دیکھتے