الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 10
الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے کہ مسیح کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اُٹھالیا تھا لیکن اگر غور وفکر سے کام لیا جاوے تو استدلال کی کمزوری صاف عیاں ہو جاتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا بے شک رفع ہوا کیونکہ رفع کے متعلق قرآن کریم کے الفاظ صاف ہیں اور ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کس طرح اور کس طرف رفع ہوا ؟ قرآن شریف کے الفاظ یہ ہیں:۔بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ "۔د یعنی اللہ نے مسیح کو اپنی طرف اُٹھا لیا۔“ اب اگر خدا کی طرف اُٹھائے جانے کے معنی آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے لئے جاویں تو سوال ہوتا ہے کہ کیا خدا آسمان تک محدود ہے؟ کیا وہ زمین پر موجود نہیں؟ کیا اسلامی تعلیم کی رو سے خدا ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں؟ ہے اور ضرور ہے۔تو پھر ان الفاظ کے کیا معنی ہوئے کہ خدا نے مسیح کو اپنی طرف اُٹھا لیا ؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب پانے کے لئے ہمیں چاہئے کہ آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیں۔یہود کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا کر ماردیا اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ نعوذ باللہ مسیح ایک لعنتی موت مرا کیونکہ توریت کی تعلیم کے مطابق صلیب پر مرنا ایک ملعون موت ہے۔(استثناء باب ۲۱ آیت ۲۳) اس طرح گویا یہود مسیح کا نعوذ باللہ ملعون اور کا ذب ہونا ثابت کرتے تھے ان کے اس دعوے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح ہرگز صلیب پر نہیں مرا بلکہ اُس کا تو اللہ تعالیٰ کی طرف رفع ہوا۔یعنی تم نے کوشش کی تھی کہ مسیح کو ملعون موت کا شکار بناؤ مگر تمہاری کوششوں کو اللہ