الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 12

۱۲ الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہیں کہ یہود کا یہ اعتراض تھا کہ مسیح صلیبی یعنی لعنتی موت مرا ہے اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ اس کا روحانی رفع نہیں ہوا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح صلیب پر ہر گز نہیں مرا بلکہ اس کے مقابل پر اسے روحانی رفع حاصل ہوا۔اگر اس جگہ رفع سے جسمانی رفع مراد لیا جاوے تو آیت کے کچھ معنی ہی نہیں بنتے۔یہود اعتراض کرتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہونے کی وجہ سے روحانی رفع سے محروم رہا بلکہ نعوذ باللہ ایک لعنتی موت مرا۔اس پر ان کو جواب ملتا ہے کہ نہیں مسیح کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان کی طرف اُٹھا لیا۔سوال کچھ اور ہے اور جواب کچھ اور۔ایک موٹی سے موٹی عقل رکھنے والا انسان بھی جواب دیتے ہوئے یہ سوچ لیتا ہے کہ کیا میں اصل اعتراض کا جواب دے رہا ہوں یا کوئی غیر متعلق بات کہہ رہا ہوں مگر نعوذ باللہ ہمارے مخالفوں کا خدا عجیب ہے کہ اعتراض تو رفع روحانی کی نسبت ہے اور جواب میں رفع جسمانی پیش کیا جا رہا ہے۔پس یہ بات یقینی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رفع الی اللہ سے مرا در فع روحانی ہے جو تمام مقر بین الہی کا ہوا کرتا ہے نہ کہ رفع جسمانی۔خلاصہ کلام یہ کہ اول تو اللہ کی ذات صرف آسمان کے اندر محدود نہیں بلکہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے پس اللہ کی طرف رفع ہونے کے معنی رفع روحانی کے سوا اور کوئی اور نہیں لئے جاسکتے دوسرے یہ کہ یہود کا اعتراض رفع روحانی کے متعلق تھا نہ کہ رفع جسمانی کے متعلق۔سو اس کے جواب میں رفع جسمانی پیش کرنا بے سود ہے اور ایسا جواب خدا جیسی حکیم ہستی کی طرف ہرگز منسوب نہیں کیا جاسکتا۔تیسرے یہ کہ اگر اللہ کی طرف اٹھائے جانے کے معنی جسم عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے جانے