الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 49 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 49

۴۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آئے گا جب تمام کے تمام یہود حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے قرآنِ مجید کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔تو پھر آیت کے صحیح معنی کیا ہوئے؟ اس سوال کے جواب سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو معنی ہمارے مخالف کرتے ہیں ان پرگزشتہ بزرگوں کا بھی ہرگز اتفاق نہیں ہے بلکہ اس آیت کی تفسیر میں گزشتہ علماء میں بھی بہت اختلاف ہوا ہے کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ظاہر ہے کہ صحیح معنی اس آیت کے وہی ہوں گے جو قرآن کی محکم آیات کے مخالف نہ ہوں اور آیت کا سیاق و سباق بھی ان کا متحمل ہو۔اب ہم سیاق و سباق پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے یہود کے اس دعوی کا ذکر ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو مصلوب کر دیا جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اصل میں مسیح" صلیب پر نہیں مرا بلکہ یہود کو غلطی لگی ہے ہاں مسیح" بوجہ زخموں کی تکلیف کے ایسی غشی کی حالت میں ضرور ہو گیا تھا کہ جس سے وہ مشابہ بالمصلوب ہو گیا۔اور اسی لئے یہود کو یہ دھوکا لگا کہ مسیح" واقعی صلیب پر مر گیا ہے مگر یہود نے اس معاملہ میں پوری تحقیقات سے کام نہیں لیا۔بلکہ صرف ایک ظن کی پیروی کرتے رہے۔اس کے بعد خدا فرماتا ہے کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيَؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ یعنی تمام کے تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اسی بات پر ایمان رکھیں گے ( کہ مسیح “ واقعی مصلوب ہو گیا ) لیکن ان کا یہ ایمان صرف ان کی موت تک رہے گا اور موت کے بعد ان پر اصل حقیقت آشکار ہوجائے گی کیونکہ موت کے بعد حقیقت کھل جایا کرتی ہے اور انسان کو اپنی غلطیوں کا علم ہو جاتا ہے۔دیکھئے ! یہ معنی کیسے صاف ہیں اور سیاق و سباق کے کس طرح مطابق ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا