الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 50

الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں تو بیشک تمام اہلِ کتاب کا یہی خیال رہے گا کہ مسیح" صلیب پر مر گیا تھا لیکن یہ ایمان صرف ان کی موت تک ہے۔موت کے بعد ان کو پتہ لگ جائے گا کہ ان کا خیال غلط تھا اور مسیح" در حقیقت صلیب پر نہ مرا تھا۔علاوہ ازیں جو معنی اس آیت کے ہمارے مخالف کرتے ہیں اس کے ماتحت یہ آیت یہود کے لئے ایک بڑی برکت کا موجب بنتی ہے کہ گویا وہ سب کے سب ایک دن مومن بن جائیں گے حالانکہ اس آیت سے پہلی اور پچھلی آیات یہود کی شرارتوں اور بدبختیوں پر مشتمل ہیں۔پس اس درمیانی آیت کو کس طرح مبشر سمجھا جاسکتا ہے۔ہمارے معنوں کی مزید تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ آیت میں جو لفظ موتہ واقع ہوا ہے اس کی دوسری قرآت موتهم آئی ہے جیسے تفسیر بیضاوی وکشاف وغیرہ میں درج ہے، اس سے ظاہر ہے کہ موتہ کی ضمیر ہر گز حضرت عیسی“ کی طرف نہیں جاتی بلکہ اہل کتاب کی طرف جاتی ہے اور بہ کے لفظ میں جو ضمیر ہے وہ اہل کتاب کے اس قول کی طرف جاتی ہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا کیونکہ اس آیت سے پہلے قرآن کریم میں اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ معنی جو ہم نے اس جگہ اس آیت کے کئے ہیں ان کی آیت زیر بحث کا آخری حصہ بھی بڑے زور سے تائید کر رہا ہے۔خدا فرماتا ہے وَيَوْمَ القِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِم شَهِيدًا له یعنی اہلِ کتاب اسی خیال پر جمے رہیں گے کہ مسیح در حقیقت صلیب پر مرگیا تھا لیکن قیامت کے دن جب تمام مُردے اٹھائے جائیں گے تو مسیح “ اُن کے خلاف بطور ایک گواہ کے کھڑا ہوگا اور ان کو بتا دے گا کہ اس کی صلیبی موت کے متعلق ان کا خیال غلط تھا۔الغرض آیت زیر بحث کا سیاق وسباق اور موتہ کی جگہ موتِھم کی دوسری قرأت اور پھر قرآن شریف کی محکم آیات ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم غیر احمدی مولویوں کے معنوں کو غلط قرار دیں۔لاعیه آیت خود وفات مسیح پر دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مسیح کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب پر قیامت ہی کے دن بطور شہید کے ہوگا۔اگر مسیح نے قیامت سے پہلے بھی اترنا تھا تو یہ مفہوم باطل ٹھہرتا ہے۔