الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 17
الحُجَّةُ البَالِغَةُ تھا اور خود ان کو خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔اس بحث کو مسیح کی وفات حیات سے تو کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھے یا نہ چڑھے اس سے ہم کو کام نہیں بلکہ ہماری غرض تو صرف اس سے ہے کہ وہ آسمان کی طرف زندہ اٹھائے گئے یا نہیں۔لیکن پھر بھی چونکہ بعض مولوی صاحبان خواہ مخواہ اس بحث کو درمیان میں لے آتے ہیں اس لئے اس کے متعلق کچھ لکھنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔سو واضح ہو کہ صلب کے معنی سمجھنے میں ہمارے مولویوں نے سخت دھوکا کھایا ہے اور وہ یہ کہ وہ اس کے معنی محض صلیب پر چڑھانے کے کرتے ہیں حالانکہ یہ معنی درست نہیں ہیں۔لغت کی کتابوں میں لکھا ہے۔الصَّليب : القِتلَةُ المَعْرُوفَةُ (ملاحظہ ہولسان العرب و تاج العروس) یعنی صلیب دینے کے معنی معروف طریقے پر مارنے کے ہیں یعنی کسی کو صلیب پر لٹکا کر مارنا۔خود لفظ صلیب کی رُوٹ میں مارنے کا مفہوم موجود ہے۔کیونکہ صلب اور صلیب کے اصل معنی ہڈی کے گودے کے ہیں۔(ملاحظہ ہو تاج العروس ولسان العرب واقرب الموارد) اس لئے صلب کے معنی یہ ہوئے کہ کسی آدمی کو اس طرح مارنا کہ اس کے جسم سے ہڈیوں کا گودا بہہ نکلے اور یہی صلیبی موت ہے۔کیونکہ صلیب کا طریق یہ ہوتا تھا کہ صلیب کی لکڑی سے مجرم کو میخوں سے لٹکا دیا جاتا تھا جہاں وہ بھوک ، تکان وغیرہ سے لٹکا لٹکا مر جاتا تھا اور اس کا جسم سڑ جاتا تھا اس لئے ما صَلَبُوہ کے یہ معنی کرنا کہ انہوں نے مسیح کو صلیب کی لکڑی پر لٹکا یا تک نہیں صریحاً غلط ہے بلکہ اس کے معنی صلیب پر لٹکا کر مارنے کے ہیں۔ہمارے مخالف بعض وقت کہتے ہیں کہ اگر یہ معنی درست ہیں تو آیت میں مَا قَتَلُوهُ کا لفظ زائد