الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 18

۱۸ الحُجَّةُ البَالِغَةُ کرنے کی کیا ضرورت تھی صرف ما صَلَبُوهُ کہنا کافی تھا۔لیکن یہ اعتراض بھی ان کی تاریخی ناواقفیت سے پیدا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے مخالفوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہود کا صرف یہی دعوی تھا کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا کر ماردیا ہے جس کے جواب میں خدا نے فرمایا کہ یہود نے مسیح کو ہرگز نہیں مارا بلکہ صلیب پر چڑھایا تک نہیں۔مگر یہ غلط ہے۔یہود میں اس عقیدے کے متعلق دو گروہ ہیں۔ایک گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم نے پہلے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا پھر ذلت کے لئے صلیب پر مسیح علیہ السلام کا جسم لٹکا دیا۔کیونکہ ان کے ہاں یہ بھی ایک طریقہ ہوتا تھا کہ مجرم مقتول کا جسم عبرت کے لئے کسی اونچی جگہ لٹکا دیتے تھے۔دوسرا گروہ ان میں یہ کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر ہی لٹکا کر مارا گیا اور صلیب پر ہی اس کی موت ہوئی۔ان دونوں کے رڈ میں خدا فرماتا ہے کہ نہ تو مسیح علیہ السلام کو یہود نے قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر لٹکا کر مارا۔قرآن شریف میں جہاں یہود کے دونوں گروہوں کا دعوی بیان کیا ہے وہاں صرف قتل کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ قتل کا لفظ ایک تو عام معنوں میں آتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح مار ڈالنا اور دوسرےخصوصیت کے ساتھ تلوار وغیرہ کے ساتھ مارنے پر بولا جاتا ہے۔(ملاحظہ ہو تاج العروس ولسان العرب ) پس جہاں یہود کا دعوی بیان ہوا ہے وہاں قتل کو عام معنوں میں رکھا ہے جو مار دینے کے سب طریقوں پر حاوی ہے۔لیکن جواب دیتے ہوئے چونکہ تصریح کی ضرورت تھی اس لئے قتل کے مقابل میں صلب کا لفظ رکھ کر قتل کو اس کے خاص معنوں میں محدود کر کے دونوں دعووں کی تردید کر دی گئی ہے۔