الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 16
۱۶ الحُجَّةُ البَالِغَةُ رَفَعَهُ مِنْ حَيْثُ التَّشْرِيفِ د یعنی امام راغب صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے مسیح علیہ السلام کا درجہ بلند کیا۔“ اور لغت کی مشہور کتاب لسان العرب میں لکھا ہے کہ رافع نام اللہ تعالیٰ کا اس لئے ہے کہ: هُوَ الَّذِي يَرْفَعُ الْمُؤْمِنَ بِالْإِسْعَادِ وَ أَوْلِيَاءَهُ بِالتَّقَرُبِ دیعنی وہ مومنوں کو سعادت کے ذریعے اور اولیاء کو قربت کے ذریعے اپنی طرف اُٹھاتا ہے۔“ الغرض یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اور نبیوں کی اصطلاح میں رفع سے مرادرفع روحانی ہوتا ہے نہ کہ رفع جسمانی۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی خدا کے کلام میں جب بندے کے متعلق رفع کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس کے معنی سوائے رفع روحانی کے اور کچھ نہیں لئے گئے اور ظاہر ہے کہ رفع روحانی میں مسیح ناصری کی قطعاً کوئی خصوصیت نہیں بلکہ تمام نیک لوگوں کا اللہ تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا رہا ہے۔ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔مَا صَلَبُوهُ اور شُبِّهَ لَهُمْ کے معنی اور واقعہ صلیب کے اصل حالات اگلا مضمون بیان کرنے سے پہلے ایک ضمنی نوٹ آیت مَا صَلَبُوہ کی تشریح اور واقعہ صلیب کے متعلق درج کرنا ضروری ہے۔اوپر والے نوٹ میں ہم نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح ناصری صلیب پر لٹکائے تو گئے مگر وہ صلیب پر مرے نہیں لیکن ہمارے مخالف مولویوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر مطلقاً چڑھائے ہی نہیں گئے بلکہ ان کی جگہ کوئی اور آدمی چڑھا دیا گیا جو ان کے ساتھ کامل مشابہت رکھتا