القصائد الاحمدیہ — Page iv
ج اور پھر آپ نے پورے یقین اور تحدی کے ساتھ تحریر فرمایا :۔,, دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہ ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اُردو مضمون کا رڈلکھ سکیں کیونکہ خدا تعالی انکی قلموں کو تو ڑ دے گا اور ان کے دلوں کو نبی کر دے گا۔“ یہ میعاد گذرگئی اور آج تک علماء سے نہ انفرادی طور پر اور نہ اجتماعی طور پر اس کا جواب لکھا جا سکا اور آج بھی یہ چیلنج قائم ہے۔ایک وضاحت اس زمانہ میں ایک طرف عیسائی پادری یہ دعوی کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام افضل النبیین ہیں بلکہ الوہیت کے مقام پر فائز ہیں اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ سچے نبی نہیں ہیں اور دوسری طرف بعض غالی شیعہ علماء نے یہ دعوی کیا تھا کہ قیامت کے دن تمام مخلوق بلکہ تمام انبیاء صرف اور صرف حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ ) کی شفاعت سے ہی نجات پائیں گے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے غیرت کا تقاضا تھا کہ ان بے بنیاد دعاوی کارڈ کیا جاتا چنانچہ حضرت بانٹی جماعتِ احمدیہ نے اسی جذبہ سے اپنے اس قصیدہ میں ان دونوں دعاوی کارڈ فرمایا ہے اور دیباچہ میں بطور وضاحت تحریر فرمایا ہے:۔میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے یہ انسانی کارروائی نہیں۔خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کا ملوں اور راستبازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین یا حضرت عیسی جیسے راستباز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید مَن عَادَ وَلِيًّا لِی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔پس مبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتا ہے اور خدا کی حکمت عملیوں پر غور کرتا ہے۔(اعجاز احمدی)