القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page iii of 390

القصائد الاحمدیہ — Page iii

J۔استعمال ہونے والی تراکیب کو وسیع روحانی معانی کا لباس پہنایا ہے۔گو آپ نے کسی دینی مدرسہ سے با قاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ ہی اساتذہ فن کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا لیکن جب بھی آپ کو اپنے جذبات کی ترجمانی کی ضرورت پڑی آپ نے اپنے خدا دا د علم سے اُردو فارسی اور فصیح عربی میں بلا تکلف اور بلا تصنع بلکہ ارتجالاً طویل قصائد لکھے جو تصنع اور آورد سے پاک ہیں اور ادب کی انتہائی بلندیوں کو چھوتے ہیں۔آپ کے بعض قصائد اپنے اندر اعجازی شان رکھتے ہیں اور رہتی دنیا تک آپ کے من جانب اللہ ہونے کا ایک زندہ نشان ہیں۔قصیدہ اعجاز یہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے جب قرآن کریم کی تفسیر پرمشتمل بعض عربی کتب تصنیف فرما ئیں تو مخالفین نے ان کی قدرو منزلت کم کرنے کیلئے اَعَانَه عَلَيْهِ قَومٌ الخَرُونَ (الفرقان: ۵) کا الزام لگایا اس الزام سے آپ کی بریت ثابت کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک تقریب پیدا کی۔مد ضلع امرتسر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نمائندہ حضرت مولوی محمد سرور شاہ اور نمائندہ اہلِ حدیث مولوی ثناء اللہ امرتسری کے درمیان ۲۹ اور ۱/۳۰اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ایک مناظرہ منعقد ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پانچ دن کے مختصر عرصہ میں ۵۳۳ اشعار پر مشتمل ایک طویل قصیدہ مع ترجمہ رقم فرمایا جس میں مباحثہ مذ کے حالات تفصیلاً درج تھے اور اس کے بارے میں یہ کہنا ناممکن تھا کہ اسے پہلے سے لکھوایا گیا ہے۔حضور نے اس مترجم قصیدہ کو دس دن کے اندر چھپوا کر مولوی ثناء اللہ امرتسری اور بعض دوسرے علماء کو بھجوایا اور معارضہ کے لئے دس ہزار روپے کے انعامی چیلنج کے ساتھ یہ بھی تحریر فرمایا:۔وو پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ ء کی دسویں کے دن شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔66