القصائد الاحمدیہ — Page 362
۳۶۲ وَمَا الدَّهْرُ إِلا تَارَتَان فَمِنْهُمَا لَكَ التَّارَةُ الْأُولَى بِأُخْرَى نُؤَزَرُ اور زمانہ کے لئے صرف دو نوبتیں ہیں سو پہلی نوبت تیری ہے اور دوسری ہماری جس میں ہمیں مدد دی جائیگی۔وَمَا النَّفْسُ يَا مِسْكِينُ ! إِلَّا وَدِيْعَةٌ وَلَابُدَّ يَوْمًا أَنْ تُرَدَّ وَتُحْضَرُ اور اسے مسکین جان! تو ایک امانت ہے اور ایک دن ضرور ہے کہ تو واپس کیا جائے اور حاضر کیا جائے۔اَتَبغِيُّ الْحَيَاةَ وَلَا تُرِيدُ ثِمَارَهَا وَمَاهِيَ إِلَّا لَعْنَةٌ لَوْ تُفَكِّرُ کیا تو زندگی چاہتا ہے اور اس کے پھل نہیں چاہتا اور بغیر پھل کے زندگی ایک لعنت ہے اگر تو سوچے۔اغَرَّتُكَ دُنْيَاكَ الدَّنِيَّةُ زِيْنَةً حَذَارِ مِنَ الْمَوْتِ الَّذِي هُوَيَبْدُرُ کیا تیری ذلیل دنیا نے تجھے مغرور کر دیا۔اس موت سے ڈر جو یکدفعہ تیرے پر وارد ہوگی۔تُرِيدُ هَوَانِى كُلَّ يَوْمٍ وَّلَيْلَةٍ وَتَبْغِي لِوَجْهِ مُشْرِقٍ لَوْ يُغَبَّرُ ہر ایک دن اور رات تو میری ذلّت چاہتا ہے اور روشن منہ کیلئے تو چاہتا ہے کہ وہ غبار آلود ہو جائے۔وَإِنَّا وَأَنْتُمْ لَا نَغِيْبُ مِنَ الَّذِي يَرَى كُلَّمَا نَنْوِي وَمَا نَتَصَوَّرُ اور ہم اور تم اس ذات سے پوشیدہ نہیں ہیں جو ہمارے وہ تمام خیالات دیکھتا ہے جو ہمارے دل میں ہیں۔وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَالْحُبَابِ وُجُودُهُ فَإِنْ شِمَّتَ نَمْ فَالْمَوْتُ كَالصُّبح يُسْفِرُ اور انسان تو محض بلبلہ کی طرح اس کا وجود ہے پس اگر چاہے تو سو جا۔پس موت صبح کی طرح ظاہر ہو جائیگی۔لَدَى النَّخْلِ وَالرُّمَّانِ تَنْقِفُ حَنْظَلًا فَأَيُّ غَبِي مِنْكَ فِي الدَّهْرِ أَكْبَرُ تو کھجور اور انار کو چھوڑ کر حنظل کو توڑ رہا ہے پس تجھ سے زیادہ بد بخت اور کون ہوگا ؟ وَأَيْنَ ضِيَاءُ الصِّدْقِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا وَكُلُّ صَدُوقِ بِالْعَلَامَاتِ يَظْهَرُ اور صدق کی روشنی کہاں ہے اگر تو صادق ہے اور ہر ایک صادق علامات سے ظاہر ہوتا ہے۔اتُؤْذِى عِبَادَ اللهِ يَاعَابِدَ الْهَوَى وَلَا تَتَّقِى رَبَّا عَلِيمًا وَتَجْسُرُ کیا تو خدا کے بندوں کو اے بندہ ہوا ! دُکھ دیتا ہے اور خدائے علیم سے نہیں ڈرتا اور دلیری کرتا ہے۔