القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 360

۳۶۰ فَمَالَكَ لَا تَخْشَى الْحَسِيْبَ وَنَارَهُ وَمَالَكَ تَخْتَارُ الْجَهِيمَ وَتُؤثِرُ پس تجھے کیا ہو گیا کہ تو خدائی محاسب سے نہیں ڈرتا اور تجھے کیا ہوگیا کہ جہنم کو اختیار کر رہا ہے۔أَتَجْعَلُ تَكْفِيرِى لِكُفْرِكَ مُوْجِبًا وَلَا تَتَّقِى يَوْمًا إِلَى الْقَبْرِ يَهْصِرُ کیا تو میری تکفیر کو اپنے کفر کا موجب کرتا ہے اور اس دن سے نہیں ڈرتا جو قبر کی طرف کھینچے گا۔إِذَا بُغْتَ فِي الدُّنْيَا مِنَ الْعَيْشِ بَارِدًا فَمَالَكَ لَا تَبْغِيُّ الْمَعَادَ وَتَنَتَرُ اور جبکہ تو دنیا کی زندگی میں آرام چاہتا ہے پس تجھے کیا ہوگیا کہ آخرت کا آرام نہیں چاہتا اور ست ہو جاتا ہے۔فَإِنْ كُنْتَ جَوْعَانَ الْهُدَى فَتَحَرَّنَا أَلَا إِنَّنَا نَقْرِى الضُّيُوفَ وَتَنْحَرُ پس اگر تو ہدایت کا بھوکا ہے تو ہماری طرف قصد کر۔ہم مہمانوں کی دعوت کرتے ہیں اور ان کیلئے ذبح کرتے ہیں۔إِذَا أَشْرَقَتْ شَمْسُ الْهُدَى وَضِيَاءُهَا تَجَلَّى فَلَيْسَ الْفَخْرُ أَنْ صِرْتَ تُبْصِرُ جب ہدایت کا سورج چمکا اور اس کی روشنی کھل گئی تو پھر یہ فخر کی بات نہیں کہ تو دیکھنے لگے۔وَلَوْ كَانَ خَوْقَ اللهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ لَوَافَيْتَنِي وَالسَّيْلَ بِالصِّدْقِ تَعْبُرُ اور اگر ذرہ کے موافق خدا کا خوف ہوتا تو تو میرے پاس آتا اور اپنے صدق کے ساتھ سیلاب کو اپنے نفس سے دور کرتا۔بِلَمَّاعَةٍ قَفْرٍ رَضِيْتَ جَهَالَةً وَتَسْعَى لِـفَـانِيَةٍ وَفِي الدِّينِ تُقْصِرُ زمین سراب جو سبزہ سے خالی ہے اس سے تو خوش ہو گیا اور فانی دنیا کیلئے تو دوڑ رہا ہے اور دین میں تو کوتا ہی کرتا ہے۔أَثَرُتَ غُبَارًا لِلَّا نَاسِ لِيَحْسَبُوا وُجُودِي مُضِلًّا لِلْوَرى وَلِيَكْفُرُوا تو نے لوگوں کے لئے ایک غبار اٹھایا تا وہ میرے وجود کو گمراہ کر نیوالا خیال کریں اور منکر ہو جائیں۔فَالْهَمَ لِى رَبِّي قُلُوبًا لِيَرْجِعُوا إِلَيَّ فَصِرْنَا مَرْجَعَ الْخَلْقِ فَانْظُرُ پس میرے خدا نے دلوں میں الہام کیا تا وہ میری طرف رجوع کریں پس ہم مرجع خلائق ہو گئے۔سوتو دیکھ لے۔كَبَيْتٍ إِذَا طَافَ الْمُلَبُّونَ حَوْلَهُ اُزَارُ وَلِى تُؤْدَى النُّفُوسُ وَتُنْحَرُ پس جس طرح خانہ کعبہ کا لوگ طواف کرتے ہیں۔میں زیارت کیا جاتا ہوں اور میری جماعت کے لوگ میرے لئے دکھ دیے جاتے اور ذبح کئے جاتے ہیں۔