القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 359

۳۵۹ وَاَصْلُ التَّنَازُع وَالسَّخَالْفِ بَيْنَنَا رَحِيمٌ قَلِيلٌ ثُمَّ بِاللَّغْوِ يُكْثَرُ اور ہم میں اور ان میں جو اختلاف ہے دراصل وہ مختصر اور تھوڑا ہے پھر وہ لغو خیالات کے ساتھ اس کو بڑھا دیتے ہیں۔جَنَحْنَا لِسِلْم شَائِقِينَ لِسِلْمِهِمْ وَجِئْنَا بِمُرَّانٍ إِذَامَا تَشَدَّرُوا ہم صلح کیلئے جھک گئے ان کی صلح کے شوق میں اور ہم نیزہ کے ساتھ نکلے جب وہ لڑنے کیلئے تیار ہوئے۔أَرَى اللَّهُ ايَاتٍ وَلَكِنْ نُفُوسُهُمْ نُفُوسٌ مُعَوَّجَةٌ كَنَارٍ تُسَعَرُ خدا نے کئی نشان دکھائے مگر ان کے نفس ٹیڑھے نفس ہیں اور آگ کی طرح ہیں جو افروختہ ہوتی ہے۔وَلَسْنَا نُحِبُّ تَضَافُنًا عِنْدَ سِلْمِهِمْ وَمَنْ جَاءَ نَا سَلْمًا فَإِنَّا نُوَقِّرُ اور اگر وہ صلح چاہتے ہیں تو ہم جنگ پسند نہیں کرتے اگر کوئی صلح کا طالب ہو کر آ وے تو ہم اس کی عزت کرتے ہیں۔وَمَنْ هَـرَّنَا فَنَعَافُهُ بِجَزَائِهِ وَمَنْ جَاءَنَا سَلْمًا فَبِالسِّلْمِ نَحْضُرُ اور جو ہم سے کراہت کرے ہم اس سے کراہت کرتے ہیں اور جو صلح کے ساتھ ہمارے پاس آئے پس ہم صلح کے ساتھ آتے ہیں۔وَكَانَ عَدُوِّى بَعْضُهُمْ فِي مَسَاءِ هِمْ فَأَضْحَوْا بِإِيْمَانِ وَ رُشْدٍ وَّ اَبْصَرُوا اور بعض ان کے اپنی شام کے وقت میرے دشمن تھے پھر دن چڑھتے ہی ایمان اور رشد انکو نصیب ہوا اور دیکھنے لگے۔وَقَدْ زَادَنِي فِي الْعِلْمِ وَالْحِلْمِ جَهْلُهُمْ وَسَكَّنتُ نَفْسِي عِنْدَ غَيْظِ يُكَرَّرُ ان کے جہل نے میراعلم او حلم زیادہ کر دیا اور ان کے غصہ سے میرا جوش نفس تھم گیا وہ غصہ جو بار بار کیا جاتا ہے۔وَأَعْجَبَنِى غَيْطُ العِدَا وَجُنُونُهُمْ أَرَاهُمُ كَقَوْمٍ مِنْ غَبُوقٍ تَخَمَّرُوا اور دشمنوں کے غصہ اور جنون نے مجھے تعجب میں ڈال دیا میں ان کو اس قوم کی طرح دیکھتا ہوں جو رات کو شراب پی کر چھو رہوتے ہیں۔تَبَصَّرُ عَدُوِّى ! هَلْ تَرَى مِنْ مُزَوِّرٍ يُؤَيِّدُهُ رَبِّي كَمِثْلِي وَيَنْصُرُ اے میرے دشمن ! خوب غور سے نگاہ کر۔کیا کوئی ایسا فریبی ہے جس کی میری طرح خدا تعالیٰ تائید اور مدد کرتا ہو۔تَبَصَّرُ وَإِنَّ الْعُمْرَ لَيْسَ بِدَائِمٍ كِلَانَا وَإِنْ طَالَ الزَّمَانُ سَيَنْدُرُ آنکھ کھول کہ عمر ہمیشہ نہیں رہے گی اور ہر ایک ہم میں سے اگر چہ زمانہ لمبا ہو جائے ایک دن مریگا۔