القصائد الاحمدیہ — Page 358
۳۵۸ نَزَلْتُ بِحُرِّ الدَّارِ دَارَ مُهَيْمِنِ وَتَاللهِ إِنَّكَ لَا تَرَانِي وَتَهُذَرُ میں اپنے خدا کے گھر کی وسط میں داخل ہوں اور بخدا تو مجھے دیکھتا نہیں اور یونہی بکواس کرتا ہے۔اَنَا اللَّيْثُ لَا أَخْشَى الْحَمِيْرَ وَصَوْتَهُمْ وَكَيْفَ وَهُمْ صَيْدِى وَلِلصَّيْدِ أَزْعَ رُ میں شیر ہوں اور گدھوں کی آواز سے نہیں ڈرتا اور کیونکر ڈروں وہ تو میرے شکار ہیں اور شکار کیلئے میں نعرے مارتا ہوں۔اَ تُذْعِرُنِي بِالْفَانِيَاتِ جَهَالَةً وَإِنَّ اذَى الدُّنْيَا يَمُرُّ وَيَطْمَرُ کیا تو مجھے فانی چیزوں سے ڈراتا ہے۔یہ تو جہالت ہے اور بہ تحقیق دنیا کا دکھ گذر جاتا ہے اور ناپدید ہو جاتا ہے۔وَلَسْنَا عَلَى الْأَعْقَابِ مَوْتُ يَرُدُّنَا وَلَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُدْمَى وَنُنْحَرُ اور ہم ایسے نہیں ہیں کہ کوئی موت ہمیں خدا کی راہ سے ہٹادے اور اگر چہ خدا کی راہ میں ہم مجروح ہو جائیں یاذ بح کئے جائیں۔تَنَكَّرَ وَجُهُ الْجَاهِلِينَ تَغَيُّظًا إِذَا أُعْثِرُوا مِنْ مَوْتِ عِيسَى وَأَخْبِرُوا جاہلوں کا منہ بگڑ گیا مارے غصہ کے جب ان کو حضرت عیسی کے مرنے کی خبر دی گئی۔وَقَالُوا كَذُوبٌ كَافِرٌ يَتَّبِعُ الْهَوَى وَحَثُوا عَلَى قَتْلِى عَوَامًا وَعَيَّرُوا اور انہوں نے کہا کہ چھوٹا کا فر ہے ہوائے نفسانی کی پیروی کرتا ہے اور میرے قتل کے لئے عوام کو اٹھایا اورسرزنش کی۔فَضَاقَتْ عَلَيْنَا الْأَرْضُ مِنْ شَرِّ حِزْبِهِمْ وَلَوْلَا يَدُ الْمَوْلى لَكُنَّانُتَبَّرُ پس انکے گروہ کی شرارت سے زمین ہم پر تنگ ہوگئی اور اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ نہ ہوتا تو ہم ہلاک ہو جاتے۔فَلَمْ يُغْنِ عَنْهُمْ مَكْرُهُمْ حِيْنَ أَشْرَقَتْ شُمُوسُ عِنَايَاتِ الْقَدِيرِ فَادْبَرُوا پس ان کے مکرنے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا جبکہ خدا کی مہربانیوں کے آفتاب چمکے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔رَجَعْنَا وَقَدْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ رِمَاحُهُمْ قَضَى الْأَمْرَ حِبُّ لَا يُبَارِيهِ مُنْكِرُ ہم واپس آئے اور انکے نیزے انہیں کی طرف واپس کئے گئے اس دوست نے فیصلہ کر دیا جس کا کوئی منکر مقابلہ نہیں کرسکتا۔مِنَ الطِّغْنِ وَالشَّحْنَاءِ يَهْدُونَ كُلُّهُمْ وَاَمْرِى مُبِينٌ وَاضِحٌ لَوْ تَفَكَّرُوا کینہ اور دشمنی سے تمام وہ بکواس کر رہے ہیں اور میری بات روشن اور واضح ہے۔اگر وہ سوچیں۔