القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 348

۳۴۸ وَكَائِنُ مِنَ الآيَاتِ قَدْ مَرَّ ذِكْرُهَا رَأَيْتُمْ فَأَعْرَضْتُمْ وَقُلْتُمْ تُزَوِّرُ اور بہت سے نشان ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔تم نے وہ نشان دیکھے اور انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ بولتا ہے۔فَعَنَّ لَنَا بَعْدَ التَّجَارِبِ حِيْلَةٌ لِنَكْتُبَ أَشْعَارًا بِهَا الآيَ تَشْعُرُ پس ہمارے لئے بہت تجارب کے بعد ایک حیلہ ظاہر ہوا۔تاہم یہ چند شعر لکھیں جن سے تمہیں یہ نشان معلوم ہو جائیں۔فَهَذَا هُوَ التَّبْكِيْتُ مِنْ فَاطِرِ السَّمَا وَهَذَا هُوَ الْإِفْحَامُ مِنِّى فَفَكِّرُوا پس اسی ذریعہ سے تمہارا منہ خدا بند کرنا چاہتا ہے۔اور یہی میری طرف سے اتمام حجت ہے۔آثَارَتْ سَنَابِكَ طِرْفِنَا نَقْعَ فَوُحِكُمْ فَهَلْ مَنْ كَمِيٌّ لِّلوَغَى يَتَبَخْتَرُ ہمارے گھوڑوں کے سموں نے تمہاری خاک اڑا دی۔پس کیا تم میں کوئی سوار ہے جو میدان میں آوے؟ اَتُثْبِتُ عَظَمَةَ آيَتِي بِتَقَاعُسٍ وَقَدْ جِئْتَ مُدًّا سَاعِيًا لِّتَحَقِّرُ رود اب تو پیچھے ہٹنے سے میرے نشان کو ثابت کر دے گا ؟ اور تو مد میں دوڑتا ہوا آیا تھا تا میری تحقیر کرے۔فَإِنْ تُعْرِضَنَّ الْآنَ يَابْنَ تَصَلُّفٍ فَهَذَا عَلَى بَطْنِ الْمُكَذِّبِ خَنْجَرُ پس اگر اب تو نے مقابلہ سے منہ پھیر لیا۔پس یہ طور تو مکذب کے پیٹ پر ایک تلوار ہے۔وَإِنْ كُنْتَ تَخْتَارُ الْهَزِيمَةَ عَامِدًا وَتَهُوِى بِوَهُدِ الذُّلِّ عِجْرًا وَّ تَحْدُرُ اور اگر تو عمداً شکست کو اختیار کرے گا۔اور ذلت کے گڑھے میں عاجزی سے گر پڑے گا۔فَفِيْهَا نَكَالُ الْعَلَمِيْنَ وَلَعْنَةٌ وَفِيهَا فَضِيْحَتُكُمْ وَلَا تَتَذَكَّرُ پس اس میں دین ودنیا کا وبال اور لعنت ہے۔اور اس میں تمہاری رسوائی ہے۔کیا تم خیال نہیں کرتے ؟ وَمَالَكَ لَا تَسْطِيْعُ إِنْ كُنْتَ صَادِقاً لِاهْلِ صَلَاحٍ كُلُّ أَمْرٍ مُيَسَّرُ اور اگر تو سچا ہے تو کیوں اب تجھے مقابلہ کی قدرت نہیں ہوتی ؟ اور صادق کے لئے ہر ایک کام آسان کیا جاتا ہے۔وَكُنتَ إِذَا حُيِّرُتَ لِلْبَحْثِ وَالْوَغَا سَطَوْتَ عَلَيْنَا شَاتِمًا لِتُوَفَّرُ اور جب تو مقام مد میں بحث کے لئے انتخاب کیا گیا۔تو نے ہم پر حملہ کیا تا اس طرح تیری عزت ہو۔يُستعمل لفظ كَائِن كما يُستعمل كأين في لسان العرب۔منہ