القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 347

۳۴۷ هَمَتْ مِثْلَ جَرْيَانِ الْعُيُون دِمَاءُ هُمْ تَسَوَّرَ دِعْصَ الرَّمْلِ مَا كَانَ يَقْطُرُ اور چشموں کی طرح ان کے خون رواں ہو گئے۔اور ان کا خون ریت کے تو دہ کے اوپر چڑھ گیا۔وَكَانَ بِحُرِّ الرَّمْلِ مَوْقِفُهُمْ فَهُمْ عَلَى رِسُلِهِمْ بَارَوْا عِدَاهُمْ وَجَمَّرُوا اور خالص ریت میں ان کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی پس انہوں نے بڑے وقار اور آرام سے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور لڑائی پر جمے رہے۔وَقَامُوا لِبَذْلِ نُفُوسِهِمْ مِنْ صِدْقِهِمْ عَلَى مَوْطِنِ فِيهِ الْمَنِيَّةُ يَزْءَ رُ اور اپنے صدق سے جان قربان کرنے کے لئے ایسی جگہ کھڑے ہو گئے۔جس میں موت شیر کی طرح غراتی تھی۔وَصُبَّتْ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ مُصِيبَةٌ وَدَقُوا عَلَيْهِ مِنَ السُّيُوفِ الْمِغْفَرُ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ایک مصیبت نازل ہوئی۔اور دشمنوں نے اس کے خو دکو تلواروں سے اس کے سر میں دھنسا دیا۔عَلَى مِثْلِهَا لَمْ نَطَّلِعُ فِي مُكَلَّمٍ وَإِنْ كَانَ عِيسَى أَوْ مِنَ الرُّسُلِ أَخَرُ ان تمام مصیبتوں کے لئے دوسرے نبی میں نظیر نہیں پائی جاتی۔خواہ عیسی ہو یا کوئی اور نبی ہو۔فَفَكِّرُ أَهْذَا كُلُّهُ كَانَ بَاطِلًا وَمَا كَانَ شِرَكُ النَّاسِ شَيْئًا يُغَيَّرُ پس سوچ۔کیا یہ تمام کارروائی باطل تھی ؟ اور شرک کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو بدلا یا جائے۔ا لَا لَائِمِنْ عَارَ النِّسَاءِ اَبَالْوَفَا اِلَامَ كَفِتْيَانِ الْوَغَى تَتَنَمَّرُ اے عورتوں کے عار ثناء اللہ۔کب تک مردانِ جنگ کی طرح پلنگی دکھلائے گا۔أَرَدْتُ الْهَوَى مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ حِجَّةً؟ وَذَلِكَ رَأْيِّ لَا يَرَاهُ الْمُفَكِّرُ کیا میں نے ساٹھ برس کی عمر کے بعد ہوا پرستی کو اختیار کیا۔یہ تو کسی عقلمند کی رائے نہ ہوگی۔اَرَيْنَاكَ آيَاتٍ فَلَا عُذْرَ بَعْدَهَا وَإِنْ خِلْتَهَا تُخْفَى عَلَى النَّاسِ تُظْهَرُ ہم تجھے کئی ایک نشان دکھلاتے ہیں اور اس کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے گا اور اگر تو خیال کرے کہ وہ پوشیدہ رہے گا تو وہ ہرگز پوشیدہ نہ رہے گا۔أَرَدْتَ بِمُدٌ ذِلَّتِي فَرَأَيْتَهَا وَمَنْ لَّايُوَقِّرُ صَادِقًا لَّايُوَفَّرُ تو نے مقام مد میں میری ذلت کو چاہا پس خود ذلت اٹھائی۔اور جو شخص صادق کی بے عزتی کرتا ہے وہ خود بے عزت ہو جائے گا۔