القصائد الاحمدیہ — Page 342
۳۴۲ أَيَا أَيُّهَا الْمُؤْذِي خَفِ الْقَادِرَ الَّذِي يَشُجُ رُؤُوسَ الْمُعْتَدِينَ وَيَقْهَرُ اے دکھ دینے والے! اس قادر خدا سے خوف کر۔جو تجاوز کرنے والوں کا سر توڑتا ہے اور ان پر قہر نازل کرتا ہے۔إِذَامَا تَلَظَّى قَهُرُهُ يُهْلِكُ الْوَرى فَلَيْسَ بِوَاقٍ بَعْدَهُ يَا مُزَوِّرُ جب اس کا قہر بھڑکتا ہے تو لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔پھر اس کے بعد اے مزور! کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔وَلَسْتَ تُرَاعِى نَهْجَ رِفْقٍ وَلِيْنَةٍ كَدَأْبِ تَــنَــاءِ اللَّهِ تُؤْذِى وَتَــبَـرُ اور تو نرمی کی راہ کی رعایت نہیں رکھتا۔اور مولوی ثناء اللہ کی طرح نیش زنی کرتا ہے۔أَلَا إِنَّ حُسُنَ النَّاسِ فِي حُسْنِ خُلْقِهِمْ وَمَنْ يَقْصِدِ التَّحْقِيرَ خُبْقًا يُحَقَّرُ خبر دار ہو کہ لوگوں کی خوبی ان کے خلق کی خوبی میں ہے۔اور جوشخص شرارت سے تحقیر کرتا ہے اس کی بھی تحقیر کی جاتی ہے۔أ أَخَيْتَ ذِنْبًا عَايِثًا أَوْ أَبَا الْوَفَا أَوَافَيْتَ مُدًّا أَوْ رَأَيْتَ امْرَتَسَر کیا تو نے کسی بھیڑیے سے دوستی لگائی یا مولوی ثناء اللہ سے۔کیا تو نے مد میں اپنا قدم ڈالا یا امرت سر میں؟ أَلَا إِنَّ أَهْلَ السَّبِّ يُدْرَى بِلَطْمَةٍ وَمُجْرِمُ لَطْمِ بِالْهَرَاوَى يُكَسَّرُ خبر دار ہو کہ گالی دینے والا طمانچہ سے متنبہ کیا جاتا ہے۔اور جو طمانچہ مارنے کا مجرم ہو اس کو سونٹوں کے ساتھ کوٹا کرتے ہیں۔فَإِيَّاكَ وَالتَّوْهِينَ وَالسَّبَّ وَالْقَلَى اذَامَارَمَيْتَ الْحَجُرَ بِالْحَجْرِ تُنْذَرُ پس تو تو ہین اور گالی اور دشمنی سے پر ہیز کر۔جب تو نے پتھر چلایا تو پتھر سے ہی ڈرایا جائے گا۔وَاَعْلَمُ أَنَّ اللَّعْنَ وَالسَّبَّ دَأَبُكُمْ وَمَنْ أَكْثَرَ التَّكْفِيرَ يَوْمًا سَيُكْفَرُ اور میں جانتا ہوں کہ لعنت بازی اور گالی تمہاری عادت ہے۔اور جو شخص بار بار لوگوں کو کافر کہے گا ایک دن وہ بھی کا فرٹھیرا جائے گا۔وَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ أَمَامَ مَلِيْكِنَا فَيَقْضِي قَضَايَانَا كَمَا هُوَ يَنْظُرُ اور ہم اور تم خدا کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔پس وہ ہمارے مقدمہ کو جیسا کہ دیکھ رہا ہے فیصلہ کرے گا۔فَإِنْ كُنْتُ كَذَّابًا كَمَا أَنْتَ تَزْعَمُ فَتُعْلَى وَإِنِّي فِي الْأَنَامِ أَحَقَّرُ پس اگر میں جھوٹا ہوں جیسا کہ تو گمان کرتا ہے۔پس تو اونچا کیا جائے گا اور میں لوگوں میں حقیر کیا جاوں گا۔