القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 343

۳۴۳ وَإِنْ كُنْتُ مِنْ قَوْمٍ اَتَوُا مِنْ مَّلِيْكِهِمْ فَتُجُرَى جَزَاءَ الْمُفْسِدِينَ وَتُبْتَرُ اور اگر میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو اپنے بادشاہ کی طرف سے آئے۔پس تجھے وہ سزا ملے گی جو مفسدوں کو ملا کرتی ہے۔وأَقْسَمْتُ بِاللَّهِ الَّذِي جَلَّ شَأْنُهُ سَيُكْرِمُنِي رَبِّي وَشَأْنِي يُكَبَّرُ اور میں خدا کی قسم کھا تا ہوں جس کی شان بزرگ ہے۔کہ عنقریب خدا میرا مجھے بزرگی دے گا اور میری شان بلند کی جائے گی۔شَعَرُنَا مَالَ الْمُفْسِدِينَ وَمَنْ يَعِشُ إِلى بُرْهَةٍ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ يَشْعُرُ ہمیں انجام کار مفسدوں کا معلوم ہو گیا ہے اور جو شخص۔کچھ مدت تک زندہ رہے گا اسے بھی معلوم ہو جائے گا۔وَفِي الْأَرْضِ أَحْنَاسٌ وَسَبُعٌ وَشَرُّهُمْ رِجَالٌ اَهَـانُونِي وَسَبُّوا وَ كَفَرُوا اور زمین میں سانپ بھی ہیں اور درندے بھی مگر سب سے بدتر۔وہ لوگ ہیں جو میری توہین کرتے اور گالیاں دیتے اور کافر کہتے ہیں۔مَنَعْنَا مِنَ الْكِذَبِ الْكَثِيرِ فَكَاثَرُوا وَشَرُّ خِصَالِ الْمَرْءِ كِذَّبٌ يُكَبِّرُ ہم نے بہت جھوٹ سے ان کو منع کیا پس انہوں نے جھوٹ کثرت کے ساتھ بولنا شروع کیا۔اور انسان کی بدترین خصلت وہ جھوٹ ہے جو بار بار بیان کرتا ہے۔كَتَبْتَ فَوَيْلٌ لِلَانَامِلِ وَالْقَلَمِ وَتَبَّتْ يَدٌ تُغْوِى الانام وَتَهُذُرُ تو نے اپنی کتاب لکھی پس ان انگلیوں پر واویلا ہے۔اور ہلاک ہو گیا وہ ہاتھ جولوگوں کو گمراہ کرتا اور بکواس کرتا ہے۔وَكَيْفَ الْفَرَاغَةُ لِلرِّسَالَةِ حُصِّلَتْ اَلَمْ يَكُ طَنْبُورٌ وَمَا أَنْتَ تَزْمُرُ اور کیونکر رسالہ تالیف کرنے کیلئے فراغت پیدا ہوگئی۔کیا طنبور اور دوسرے مزامیر تیرے پاس موجود نہ تھے؟ أوَانِسُ رِجْزَ الْكِذَبِ فِيهَا كَأَنَّهَا كَنِيْفٌ وَقَدْ عَايَنْتُ وَالْعَيْنُ تَقْدُرُ میں جھوٹ کی پلیدی اس رسالہ میں دیکھتا ہوں گویا وہ پاخانہ ہے اور میں نے دیکھا اور آنکھوں نے کراہت کی۔زَمَانٌ يَسُحُ الشَّرَّ عَنْ كُلِّ فِيقَةٍ وَزَلْزَلَةٌ أَرْدَى الْأَنَاسَ وَصَرْصَرُ یہ وہ زمانہ ہے کہ وقتا فوقتا شر کے بادل سے پانی نکال رہا ہے اور ایک زلزلہ ہے جس نے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور ہوا سخت اور تیز چل رہی ہے۔فَفِي هَذِهِ الْأَيَّامِ يُطْرَى ابْنُ مَرْيَمَ مَسِيحُ أَضَلَّ بِهِ النَّصَارَى وَ خَسَّرُوا پس ان دنوں وہ مسیح تعریف کیا جاتا ہے۔جس کے ساتھ نصاری نے مخلوق کو گمراہ کیا اور ہلاک کیا۔