القصائد الاحمدیہ — Page 341
۳۴۱ اور بہت سی تو وَكَمْ مِّنْ حَقَائِقَ لَا يُرَى كَيْفَ شَيْحُهَا كَنَجْمِ بَعِيدٍ نُورُهَا يَتَسَكَّرُ ی حقیقتیں ہیں جو ان کی صورت نظر نہیں آتی۔اس ستارہ کی طرح جو دور تر ہے۔باعث دوری ان حقائق کا نور چھپ جاتا ہے۔أْتِى مِنَ اللَّهِ الْعَلِيمِ مُعَلِّمٌ وَيَهْدِى إِلَى أَسْرَارِهَا وَيُفَسِّرُ پس خدا کی طرف سے ایک معلم آتا ہے۔اور اس کے بھید ظاہر کرتا ہے اور بیان فرماتا ہے۔وَإِنْ كُنْتَ قَدْ آلَيْتَ أَنَّكَ تُنْكِرُ فَكِدِى لِمَا زَوَّرُتَ فَالْحَقُّ يَظْهَرُ اور اگر تو نے قسم کھالی ہے کہ تو انکار کرتارہے گا۔پس تو جس طرح چاہے اپنی دوروغ بازی سے فریب کر اور حق ظاہر ہوکر رہے گا۔وَسَوْفَ تَرَى أَنِّى صَدُوقَ مُؤَيَّدٌ وَلَسْتُ بِفَضْلِ اللهِ مَا أَنْتَ تَسْطُرُ اور عنقریب تو دیکھے گا کہ میں سچا ہوں اور مدد کیا گیا ہوں۔اور میں خدا کے فضل سے ایسا نہیں جیسا کہ تو لکھتا ہے۔وَيُبْدِى لَكَ الرَّحْمَانُ أَمْرِى فَيَنْجَلِي وَإِنِّي ظَلَامٌ أَوْ مِنَ اللَّهِ نَيرُ اور خدا میری حقیقت تیرے پر ظاہر کرے گا۔پس کھل جائے گا۔کہ کیا میں تاریکی ہوں یا نور ہوں۔اُرِيْكَ وَ غَدَّارَ الزَّمَان اَبَا الْوَفَا يَدَ اللَّهِ فَالضَّوْضَاهُ يُخْفى وَيُسْتَرُ میں تجھے اور غذ ارزمانہ ثناء اللہ کوخدا کا ہاتھ دکھلاؤں گا۔پس شور و فریا دسب موقوف ہو جائے گی۔وَيَعْلَمُ رَبِّي مَنْ تَصَلَّفَ وَافْتَرى وَمَنْ هُوَ عِنْدَ اللهِ بَرُّمُطَهَّرُ اور خدا میرا جانتا ہے کہ شریر اور مفتری کون ہے۔اور کون وہ ہے جو اس کے نزدیک نیک اور پاک ہے۔اَتُطْفِيُّ نُورًا قَدْ أُرِيدَ ظُهُورُهُ لَكَ الْبُهْرُ فِي الدَّارَيْنِ وَ النُّورُ يَبْهَرُ کیا تو اس نور کو بجھا نا چاہتا ہے جس کا ظاہر کرنا ارادہ کیا گیا ہے۔تجھے دونوں جہانوں میں بدبختی ہے اور نور ظاہر ہوکر رہے گا۔أَلَا إِنَّ وَقْتَ الدَّجُلِ وَالنُّورِقَدْ مَضَى وَجَاءَ زَمَانٌ يُحْرِقُ الْكِذْبَ فَاصْبِرُوا خبر دار ہو۔جھوٹ اور فریب کا وقت گذر گیا۔اور وہ زمانے آ گیا جو جھوٹے کو جلا دے گا۔پس صبر کر۔وَإِنْ كُنتَ قَدْ جَاوَزُتَ حَدَّ تَوَرُّعٍ فَكَفِّرُ وَ كَذَّبُ أَيُّهَا الْمُتَهَوِّرُ اور اگر تو پر ہیز گاری کی حد سے آگے گزر گیا ہے۔پس مجھے کافر کہہ اور تکذیب کر۔اے دلیر آدمی!