القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 334

۳۳۴ لَهُ خَسَفَ القَمَرُ الْمُنِيْرُ وَإِنَّ لِى غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ أَتُنْكِرُ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا ؟ وَكَانَ كَلَامٌ مُعْجِزَآيَةً لَّهُ كَذلِكَ لِى قَوْلِى عَلَى الْكُلِّ يَبْهَرُ اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔إِذَا الْقَوْمُ قَالُوا يَدَّعِى الْوَحْيَ عَامِدًا عَجْتُ فَإِنِّي ظِلُّ بَدْرٍ يُنَوِّرُ جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمد اوحی کا دعویٰ کرتا ہے۔میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہوں۔وَ أَنَّى لِظِلٍّ أَنْ يُخَالِفَ أَصْلَهُ فَمَا فِيهِ فِي وَجْهِيَ يَلُوحُ وَيَزْهَرُ اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے۔پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے۔وَإِنِّي لَدُوْنَسَبٍ كَاصْلٍ أُطِيعُهُ وَمِنْ طِينِهِ الْمَعْصُومِ طِينِي مُعَطَّرُ اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذو نسب ہوں۔اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے۔كَفَى الْعَبْدَ تَقْوَى الْقَلْبِ عِنْدَ حَسِينَا وَلَيْسَ لِنَسَبٍ ذُو صَلَاحٍ مُعَيِّرُ اور بندہ کو دل کا تقویٰ کافی ہے اور ایک صالح کو اس لئے سر زنش نہیں کر سکتے کہ اس کی نسب اعلیٰ نہیں۔وَلكِنْ قَضَى رَبُّ السَّمَا لِأَئِمَّةٍ لَهُمْ نَسَبٌ كَيْلَا يَهِيجَ التَّنَفُرُ مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذ ونسب ہوں۔تاکہ لوگوں کو ان کی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو۔وَمَنْ كَانَ ذَانَسَبٍ كَرِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَبٌ فَهُوَ الدَّنِيُّ الْمُحَقَّرُ اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اس میں ذاتی صفات کچھ نہیں تو وہ کمینہ اور حقیر ہے۔وَلِلَّهِ حَمْدٌ ثُمَّ حَمْدٌ فَإِنَّنَا جَمَعْنَاهُمَا حَقًّا فَلِلَّهِ نَشْكُرُ اور خدا کو حمد ہے اور پھر حمد ہے کہ ہم نے اپنے اندر۔حسب اور نسب دونوں کو جمع کیا ہے پس ہم خدا کا شکر کرتے ہیں۔كَذلِكَ سُنَنُ اللهِ فِى أَنْبِيَائِهِ جَرَتْ مِنْ قَدِيمِ الدَّهْرِ فَاخْشَوُا وَ أَبْصِرُوا اسی طرح خدا کی سنت اس کے نبیوں میں ہے۔جو قدیم زمانہ سے جاری ہے۔پس ڈرو اور دیکھو۔