القصائد الاحمدیہ — Page 335
۳۳۵ وَأَمَّا الَّذِي مَاجَاءَ مِثْلَ أَئِمَّةٍ فَلَيْسَ لِذَالِكَ شَرُطُ نَسَبٍ فَابْشِرُوا مگر جو شخص اماموں میں سے نہیں ہے۔اس کے لئے نسب کی ضرورت نہیں۔پس خوشی کرو۔وَمَاجِئْتُ وَمَا جِئْتُ إِلَّا مِثْلَ مَطَرٍ وَّ دِيمَةٍ دَرُورٍ وَّارْوَيْتُ الْبِلَادَ وَأَعْمُرُ اور میں مثل بارش کے آیا ہوں جوزور سے اور آہنگی سے برستی ہے۔اور اس کا پانی جاری رہتا ہے اور میں نے شہروںکو سیراب کر دیا اور آباد کر رہا ہوں۔وَكَمْ مِّنْ أُناسٍ بَايَعُونِي بِصِدْقِهِمْ وَمَا خَالَفُوْا قَوْلِي وَمَا هُمْ تَذَمَّرُوا اور بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے مجھ سے بیعت کی۔اور نہ انہوں نے میری بات کی مخالفت کی اور نہ وہ خبیث النفس ہو گئے۔فَقَرَّبْتُ قُرْبَانًا يُنَجِّى رِقَابَهُمْ وَيَعْلَمُ رَبِّي مَانَحَرْتُ وَانْحَرُ پس میں نے ایسی قربانی کی جس سے ان کی گردنوں کو میں نے چھڑا دیا۔اور میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے کیا قربانی کی اور کیا کر رہا ہوں۔وَلِى عِزَّةٌ فِي حَضْرَةِ اللَّهِ خَالِقِي فَطُوبَى لِقَوْمٍ طَاوَعُونِي وَاتَّرُوا اور مجھے جناب الہی میں جو میرا خالق ہے ایک عزت ہے۔پس خوشی ہو اس قوم کے لئے جنہوں نے میری اطاعت کی اور مجھے اختیار کیا۔أَتَى الْعِلْمُ بِالْمُتَقَدِّمِيْنَ وَبَعْدَهُمْ تَلَافي جَمِيعَ الْفَائِتَاتِ مُؤَخَّرُ علم متقدمین کے ذریعہ سے آیا اور بعد ان کے جو کچھ ان کے زمانوں میں رہ گیا تھا اس کے پیچھے آنے والے نے تلافی کی۔وَمَا أَنَا إِلَّا مِثْلَ مَالِ تِجَارَةٍ فَمَنْ رَدَّنِى كِبَرًا أَبِيدُوا وَ حُسِّرُوا اور میں ایک مال تجارت کے مانند ہوں۔پس جن لوگوں نے مجھے رڈ کیا وہ تباہی اور خسارہ میں رہے۔وَمَا هَلَكَ الْأَشْرَارُ إِلَّا لِبُخْلِهِمْ وَمَا فَهِـمُوْا أَقْوَالَنَا وَتَنَمَّرُوا اور شریر لوگ تو محض اپنے بخل سے ہلاک ہوئے۔اور ہماری باتوں کو انہوں نے نہ سمجھا اور پلنگی ظاہر کی۔قُلُوبٌ تُضَاهِي أَجْمَةً مَوْحُوشَةً فَمِنْ شَكْلِ اِنْسِ وَحُشُهَـا تَتَنَفَّرُ بعض دل ایسے ہیں کہ اس بن سے مشابہ ہیں جس میں جنگلی جانور رہتے ہیں۔پس انسانوں کی شکل دیکھ کر اس کے وحشی متنفر ہوتے ہیں۔كَبِيرُ أَنَاسٍ شَرُّهُمْ فِي زَمَانِنَا وَاَعْقَلُهُمْ شَيْطَانُ قَوْمٍ وَأَمْكَرُ بڑا بزرگ ہمارے زمانہ میں وہ ہے جو بڑا شریر ہےاور بڑا نظم ندوہ ہے جو تمام قوم میں سے ایک شیطان ہے اور سب سے بڑا مکر کرنے والا۔