القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 333

۳۳۳ بُعِثْتُ مِنَ اللهِ الرَّحِيمِ لِخَلْقِهِ لِانْذِرَ قَوْمًا غَافِلِينَ وَأُخْبِرُ میں خدائے رحیم کی طرف سے اس کی مخلوق کیلئے بھیجا گیا ہوں۔تاکہ میں غافلوں کو متنبہ کروں اور ان کو خبر دوں۔وَ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ الْكَرِيمِ وَلُطْفِهِ عَلَى كُلِّ مَنْ يَبْغِى الصَّلَاحَ وَيَشْكُرُ اور میرا آنا خدائے کریم کا فضل ہے اور اس کا لطف ان تمام لوگوں پر ہے جو صلاحیت کے طلب گار ہیں اور شکر کرتے ہیں۔أَرَى النَّاسَ يَبْغُونَ الْجِنَانَ نَعِيْمَهَا وَاَحْلَى أَطَائِبِهَا الَّتِي لَا تُحْصَرُ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ بہشت اور اس کی نعمتوں کے طلب گار ہیں۔اور بہشت کی وہ لذات طلب کرتے ہیں جو اعلیٰ اور بے حد و پایاں ہیں۔وَ أَبْغِي مِنَ الْمَوْلَى نَعِيْمًا يَسُرُّنِي وَمَا هُوَ إِلَّا فِي صَلِيْبٍ يُكَسَّرُ اور میری خواہش ایک مراد ہے جس پر میری خوشی موقوف ہے۔اور وہ خواہش یہ ہے کہ کسی طرح صلیب ٹوٹ جائے۔وَ ذَلِكَ فِرْدَوْسِي وَخُلْدِي وَ جَنَّتِي فَادْخِلْنِ رَبِّي جَنَّتِي أَنَا أَضْجَرُ یہی میرا فردوس ہے یہی میرا بہشت ہے یہی میری جنت ہے۔پس اے میرے خدا! میرے بہشت میں مجھے داخل کر کہ میں بے قرار ہوں وَإِنِّي وَرِثْتُ الْمَالَ مَالَ مُحَمَّدٍ فَمَا أَنَا إِلَّا آلُهُ الْمُتَخَيَّرُ اور میں محد صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچ گیا۔وَكَيْفَ وَرِثْتُ وَلَسْتُ مِنْ أَبْنَاءِهِ فَفَكِّرُ وَهَلْ فِي حِزْبِكُمْ مُّتَفَكَّرُ اور میں کیونکر اس کا وارث بنایا گیا جب کہ میں اس کی اولاد میں سے نہیں ہوں، پس اس جگہ فکر کر کیا تم میں کوئی بھی فکر کرنے والا نہیں ؟ اَ تَزْعَمُ أَنَّ رَسُوْلَنَا سَيِّدَ الْوَرى عَلَى زَعْمِ شَانِيهِ تُوُفِّيَ اَبْتَرُ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسا کہ دشمن بد گو کا خیال ہے۔فَلَا وَالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ لِأَجْلِهِ لَهُ مِثْلُنَا وَلَدٌ إِلى يَوْمِ يُحْشَرُ مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا کہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیں اور قیامت تک ہوں گے وَإِنَّا وَرِثْنَا مِثْلَ وُلْدٍ مَتَاعَهُ فَأَيُّ تُبُوتٍ بَعْدِ ذَلِكَ يُحْضَرُ اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی۔پس اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے؟