القصائد الاحمدیہ — Page 289
۲۸۹ اَجِدُ الأنَامَ بِبَهْجَةٍ مُّسْتَكْثِرَةٍ عِيدٌ أَتَى أَوْ جُوبَلِيُّ الْقَيْصَرَه میں لوگوں کو بہجت وسرور میں پاتا ہوں۔یہ عید کا جشن ہے یا قیصرہ کی جو بلی۔نَشَرَ النَّهَانِي فِي الْمَحَافِلِ كُلِهَا فَارَى الْوُجُوهَ تَهَلَّلَتْ مُسْتَبْشِرَه تمام مجالس اور محفلوں میں مبارک بادی کے پیغامات نشر ہورہے ہیں۔جن کے نتیجہ میں میں چہروں کو خوشی سے کھلے ہوئے دیکھتا ہوں إِنِّي أَرَاهَا نِعْمَةً مِّنْ رَّبِّنَا فَالشُّكْـرُ حَقٌّ وَّاحِبٌ لَابَرُبَـرَه میں اسے اپنے رب کی ایک نعمت سمجھتا ہوں۔پس (اس کا) شکر کر ناحق واجب ہے نہ کہ بے فائدہ گفتگو۔لَا شَكٍّ أَنَّ سُرُورَنَا مِنْ شُكْرِهَا خَيْرٌ فَمَنْ يَعْمَلُهُ إِخْلَاصًا يَّرَه بے شک ہماری خوشی اس کا شکر کرنے کی وجہ سے ہے۔یہ ایسی بھلائی ہے کہ جو ا سے اخلاص سے سرانجام دے گا وہ اس کا نتیجہ دیکھ لے گا أَمَرَ النَّبِيُّ لِشُكْرِ رَجُلٍ مُّحْسِنٍ قُتِلَ الْعُنُودُ الْمُعْتَدِى مَا اَ كَفَرَه نبی کریم ﷺ نے محسن کا شکریہ ادا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔حد سے گزرنے والا ہلاک ہو۔وہ کس قدر ناشکرا ہے۔(تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۹۲)