القصائد الاحمدیہ — Page 290
۲۹۰ ۴۷ حِبُّ لَنَا فَبِحُبِّهِ نَتَحَبَّبُ وَعَنِ الْمَنَازِلِ وَالْمَرَاتِبِ نَرْغَبُ ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اُس کی محبت سے پُر ہیں۔اور مراتب اور منازل سے ہمیں بے رغبتی اور نفرت ہے۔إِنِّي أَرَى الدُّنْيَا وَبَلْدَة أَهْلِهَا جَدَبَتْ وَأَرْضُ وِدَادِنَا لَا تَجْدِبُ میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اور اس کے طالبوں کی زمین قحط زدہ ہوگئی ہے یعنی جلدی تباہ ہو جائے گی اور ہماری محبت کی زمین کبھی قحط زدہ نہیں ہوگی۔يَتَمَايَلُوْنَ عَلَى النَّعِيمِ وَإِنَّنَا مِلْنَا إِلَى وَجُهِ يَسُرُّ وَيُطْرِبُ لوگ دنیا کی نعمت پر جھکتے ہیں۔مگر ہم اس منہ کی طرف جھک گئے ہیں جو خوشی پہنچانے والا اور طرب انگیز ہے۔إِنَّا تَعَلَّقْنَا بِنُورِ حَبِيْبِنَا حَتَّى اسْتَنَارَ لَنَا الَّذِي لَا يَخْشِبُ ہم اپنے پیارے کے دامن سے آویختہ ہیں ایسے کہ جو صاف اور شفاف نہیں ہوسکتا وہ بھی ہمارے لئے منور ہو گیا۔إِنَّ الْعِدَا صَارُوا خَنَازِيرَ الْفَلَا وَنِسَاءُ هُمُ مِنْ دُونِهِنَّ الْأَكْلَبُ دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔اور اُن کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔سَبُّوا وَمَا اَدْرِى لِاَيَ جَرِيمَةٍ سَبُّوا اَنَعْصِى الْحِبَّ اَوْ نَتَجَنَّبُ اور انہوں نے گالیاں دیں اور میں نہیں جانتا کیوں دیں۔کیا ہم اُس دوست کی مخالفت کریں یا اس سے کنارہ کریں۔قَسَمْتُ أَنِّي لَنْ اُفَارقَهُ وَلَوْ مَزَقَتُ أُسُودٌ جُيَّتِى أَوْ أُذُءُ بُ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا اگر چہ شیر یا بھیڑئیے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ذَهَبَتْ رِيَاسَاتُ الْأَنَاسِ بِمَوْتِهِمْ وَلَنَا رِيَاسَةُ خُلَّةٍ لَا تَذْهَبُ لوگوں کی ریاستیں اُن کے مرنے کے ساتھ جاتی رہیں اور ہمارے لئے دوستی کی راہ ریاست ہے جو قابلِ زوال نہیں۔(نجم الهدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۵۳-۵۴)